مشکل میں آسانی
قرآن کی سورۃ الانشراح میں بتایا گیا ہے کہ— پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بےشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے (:5-694)۔ ان الفاظ میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے جس کو خدا نے ابدی طور پر پوری دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ آدمی خواہ کسی بھی ملک میں ہو، خواہ وہ کسی بھی زمانے میں ہو، خواہ وہ کسی بھی حالت میں ہو، ہر جگہ اور ہر حال میں وہ فطرت کے اس قانون کو کارفرما پائے گا۔
موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں کسی بھی شخص کے لیے ہمیشہ یکساں حالات نہیں ہوتے۔ مگر قرآن میں بیان کردہ مذکورہ فطری قانون بتاتا ہے کہ کسی بھی حال میں انسان کو بددل یا پست ہمت نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ خود خالق عالم کے قائم کردہ اصول کی بنا پر ہر ناموافق صورت حال میں ایک موافق امکان چھپا ہوا ہے۔
مثلاً ایک شخص کا باپ اس کی کم عمری میں انتقال کر جائے تو یہ بظاہر اس کے لیے ایک ناموافق بات ہے۔ مگر اس حادثے کا موافق پہلو یہ ہے کہ باپ کے سائے سے محرومی اس کے اندر خوداعتمادی کی صفت جگانے والی ثابت ہو گی۔ ایک شخص غریب گھر میں پیدا ہو تو بظاہر یہ محرومی کی بات ہے مگر اس کا روشن پہلو یہ ہے کہ ایسا آدمی اپنے حالات کی بنا پر زیادہ محنت کرے گا اور زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرے گا، وغیرہ۔
اسی طرح ہر مشکل، ہر محرومی اور ہر حادثے میں ہمیشہ ایک نیا اور بہتر امکان چھپا ہوتا ہے۔ ناموافق حالات چیلنج بن کر آدمی کو جھنجھوڑتے ہیں۔ وہ اس کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرتے ہیں۔ اس طرح ہر ناموافق جھٹکا آدمی کے لیے ترقی کا زینہ بنتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ معمولی انسان سے اوپر اٹھ کر غیر معمولی انسان بن جاتا ہے۔
