خوبی تلاش کرو
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا يَفْرَكُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا، رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ (مسند احمد، حدیث نمبر 8363)۔ یعنی، کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ رکھے ، اگر اس کے اندر کوئی ناپسندیدہ خصلت ہو گی تو اسی کے ساتھ اس کے اندر کوئی پسندیدہ خصلت بھی موجود ہو گی۔ اس حدیث میں مومن اور مومنہ سے مراد مومن شوہر اور مومن بیوی ہیں۔
یہ اللہ تعالیٰ کا تخلیقی نظام ہے کہ کسی ایک مرد اور عورت کو تمام انسانی خوبی نہیں دی جاتی۔ ایک مرد اگر جسمانی حیثیت سے زیادہ طاقت ور ہو تو وہ دماغی صلاحیت کے اعتبار سے کم ہو گا اسی طرح اگر کوئی مرد دماغ کے اعتبار سے غیر معمولی صلاحیت کا حامل ہو تو وہ جسم کے اعتبار سے ایک کمزور انسان ہو گا۔ اسی طرح ایک عورت کو اگر صورت کے اعتبار سے زیادہ حصہ ملا ہو تو سیرت کے اعتبار سے وہ زیادہ خصوصیات کی حامل نہ ہو گی۔ اور اگر وہ سیرت میں ممتاز ہو تو صورت کے اعتبار سے وہ کوئی ممتاز خاتون نہ ہو گی۔ اس میں استثناء ہو سکتا ہے مگر عام اصول یہی ہے۔ فطرت کا یہی اصول ہے جس کی طرف مذکورہ حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے۔
یہ ایک ایسا اصول ہے جس میں ہر شادی شدہ جوڑے کے لیے کامیابی کا راز موجود ہے۔ شادی شدہ زندگی کی ناکامی کا سبب اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ زوجین میں سے کوئی ایک دوسرے کو بظاہر اپنی مرضی کے مطابق نہیں پاتا اس لیے وہ اس سے بددل ہو جاتا ہے۔ مگر مذکورہ اصول کے مطابق، اس بددلی کا سبب یہ نہیں ہوتا کہ فریق ثانی فی الواقع ویسا ہی ہے جیسا کہ فریق اول اس کو سمجھ رہا ہے۔ اس طرح کے معاملے میں عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ فریق اول کی رائے یک طرفہ ہوتی ہے۔ وہ فریق ثانی کے دوسرے پہلو کو دیکھے تو اس کے بارے میں اس کی رائے بالکل بدل جائے۔
مثال کے طور پر ایک شوہر اپنی بیوی کو ظاہری خصوصیات میں کم پاتا ہے اور اس بنا پر وہ اس کو ناپسند کرنے لگتا ہے۔ لیکن اس کو جاننا چاہیے کہ یہی اس کی بیوی کی کل شخصیت نہیں، عین ممکن ہے کہ ظاہری کمی کے باوجود اس کی شخصیت میں اندرونی اخلاقی صفات بہت زیادہ موجود ہوں اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ کسی خاتون کے اندر سیرت و کردار کے اعلیٰ اوصاف ہونا خاندانی زندگی کے لیے زیادہ اہم حیثیت رکھتا ہے۔
