نہرو رپورٹ
پورے ملک کے لیے یکساں سول کوڈ بنانے کا ذہن کافی پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ غالباً اس کا اظہار سب سے پہلے 1928ء میں نہرو رپورٹ کی صورت میں ہوا۔ نہرو رپورٹ حقیقتاً آزاد ہندستان کے دستور کا ایک پیشگی ڈرافٹ تھا جس کو مشہور ماہر قانون موتی لال نہرو (1931-1861) نے تیار کیا تھا۔ اس دستوری مسودہ میں تجویز کیا گیا تھا کہ آزاد ہندستان میں شادی بیاہ کے معاملات کو یکساں ملکی قانون کے تحت لایا جائے گا۔ اس وقت علما نے اس کی سخت مخالفت کی۔ مزید یہ ہوا کہ اس وقت کی برٹش حکومت نے بھی اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس میں ہندستان کے لیے درجہ مستعمرہ (dominion status) کی بات کہی گئی تھی جو انگریزوں کے لیے ناقابل قبول تھی۔
اس کے بعد دسمبر 1939 میں اس پر غور کرنے کے لیے کانگرس کا ایک اجلاس لاہور میں بلایا گیا۔ اس اجلاس نے اس کے عملی پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد نہرو رپورٹ کو رد کر دیا۔
