دفعہ44 قابل حذف
اُوپر میں نے جو تجزیہ کیا ہے اور جو دلائل جمع کیے ہیں، اس کے بعد دو اور دو چار کی طرح یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ دستور ہند کی دفعہ 44 کی کوئی بھی قانونی یا اخلاقی یا سماجی معنویت نہیں۔ وہ کچھ دماغوں کا ایک فرضی تخیل تھا۔ اب اس کا واحد انجام یہ ہونا چاہیے کہ اس کو دستور سے حذف کر دیا جائے، ٹھیک اسی طرح جس طرح جسم کی فاضل آنت (Appendix) کا آپریشن کرکے اسے نکال دیا جاتا ہے۔
اس قسم کا دستوری آپریشن کوئی نئی چیز نہیں۔ دستور ہند میں بار بار ایسے حذف و اضافے کیے جا چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ابتدائی دستور میں انفرادی ملکیت کو مکمل طور پر محترم قرار دیا گیا تھا اور حکومت کو دستوری طور پر یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ کسی کی جائز ملکیت کو اس سے چھین سکے۔ مگر1955 میں دستور میں چوتھا ترمیمی ایکٹ (The Constitution Fourth Amendment) Act 1955منظور کیا گیا جس کی رو سے اسٹیٹ کو یہ حق حاصل ہوگیا کہ وہ کسی بھی شخص کی نجی ملکیت کو جبراً اپنے قبضہ میں لے لے۔ اس ایکٹ کی روسے مالک جائیداد کو اس حق سے بھی محروم کر دیا گیا کہ سرکاری معاوضہ اگر اس کو مارکٹ کی شرح سے کم معلوم ہو تو وہ عدالت میں اس کے خلاف استغاثہ دائر کر سکے۔
اسی طرح ابتدائی دستور میں سابق راجاؤں کو صرف خاص(Privy Purses) کا حق دیا گیا تھا۔ مگر 1971 میں دستور میں26 ویں ترمیم کی گئی جس کی روسے اس دفعہ کا خاتمہ کردیا گیا اور صرف خاص کے سلسلے میں ان کو دیے ہوئے تمام دستوری حقوق کو یکسر ساقط کر دیا گیا، وغیرہ۔
ان نظائر کی روشنی میں یہ بات کسی بھی درجہ میں انوکھی نہیں ہے کہ ایک اور ترمیم کے ذریعہ دستور ہند کی دفعہ44 کو کامل طور پر حذف کر دیا جائے۔ اس کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوگا۔ البتہ ہمارا دستور ایک ایسے بوجھ سے ہلکا ہو جائے گا جو غیر ضروری طور پر اس کے اُوپر لاد دیا گیا تھا۔
