توحید اور شرک کا فرق
توحید کا مطلب خالق کو پا لینا ہے اور شرک کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مخلوقات میں اٹک کر رہ جائے۔ توحید حقیقت کی سطح پر جینے کا نام ہے اور شرک کا مطلب توہمات کی سطح پر جینے کا نام۔ توحید اپنی فطرت کی دریافت کا نتیجہ ہے اور شرک اپنی فطرت سے بے خبری کا نتیجہ۔ اہل توحید ہی اس دنیا کے مطلوب انسان کی حیثیت رکھتے ہیں کیوں کہ یہی لوگ ہیں جو خالق کی منشا کے مطابق ہیں۔
دنیا کے بنانے والے نے اس کو جس منصوبے کے تحت بنایا ہے اہل توحید اس منصوبہ الٰہی کی تکمیل کر رہے ہیں۔ وہ اسی نقشہ پر ہیں جس نقشہ پر انسان کو ہونا چاہیے۔ اہل توحید خدا کے مطلوب انسان ہیں۔ وہ دنیا میں دنیا کے مالک کی مرضی کو پورا کر رہے ہیں۔
شرک اور اہل شرک کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ شرک خدا کی دنیا میں ایک اجنبی تصور ہے۔ اہل توحید اگر اس دنیا میں مطلوب لوگ (wanted people) ہیں تو اہل شرک اس کے برعکس، غیر مطلوب لوگ (unwanted people)۔ شرک کے عقیدہ کو اس دنیا میں اس کے مالک کی سند حاصل نہیں۔ شرک کی روش اس دنیا میں ایک ایسی روش ہے جس کی اجازت دنیا کے مالک نے دنیا میں بسنے والوں کو نہیں دی۔
گول خانہ میں کوئی چوکور چیز رکھی جائے تو وہ اس کے اندر فٹ نہیں بیٹھے گی۔ جب کہ گول خانہ میں گول چیز بالکل فٹ بیٹھ جاتی ہے۔ یہی معاملہ توحید اور شرک کا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے صرف توحید کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے توحید کا تصور یا موحدانہ زندگی اس کی فطرت کے عین مطابق ہے جب کہ شرک کا عقیدہ یا مشرکانہ زندگی انسانی فطرت کے مطابق نہیں۔
مشرک انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ غیر خدائی چیزیں اس کی توجہات کا مرکز بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس لیے پیش آنے والے مختلف حالات میں اس کا رویہ بھی انہیں غیر خدائی ہستیوں کی نسبت سے متعین ہوتا ہے۔ وہ اپنی کامیابی میں بھی انہیں کی طرف دوڑتا ہے اور ناکامی میں بھی وہ انہیں کی پناہ تلاش کرنا چاہتا ہے۔
اس کی مفروضہ غیر خدائی ہستیاں ہی ہر صورت حال میں اس کے دل و دماغ پر چھائی رہتی ہیں۔ موحد انسان اگر اپنے تجربات سے توحید کی غذا پاتا رہتا ہے تو مشرک انسان کے لیے اس کے تجربات مشرکانہ غذا کے حصول کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
آدمی ہر لمحہ کچھ حالات کے درمیان جیتا ہے— خوشی کے حالات یا غم کے حالات، تکلیف کے حالات یا آرام کے حالات، کامیابی کے حالات یا ناکامی کے حالات ، اختیار و اقتدار کے حالات یا بے اختیاری کے حالات، غلبہ کے حالات یا مغلوبیت کے حالات، موافق حالات یا غیر موافق حالات۔ ان مختلف حالات میں ایک رویہ (response) موحدانہ رویہ ہے اور دوسرا رویہ مشرکانہ رویہ۔
موحد انسان خدا کی عظمت میں جی رہا ہوتا ہے اس لیے اس کی زندگی میں پیش آنے والا ہر واقعہ اس کو خدا کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ اس کا رویہ ہر موقع پر وہی ہوتا ہے جو اس کے عقیدۂ توحید کے مطابق ہو۔ وہ ہر صورت حال میں ایک سچا خدا پرست انسان ثابت ہوتا ہے۔ وہ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں اپنے اعتدال کو نہیں کھوتا۔ وہ خواہ جس حال میں ہو، ہمیشہ اپنے خدا سے وابستہ رہتا ہے۔ خدا اس کی تمام توجہات کا مرکز بن جاتا ہے، وہ کسی بھی حال میں اس سے نہیں ہٹتا۔
توحید خدا کی نظر میں سب سے زیادہ باقیمت چیز ہے اور شرک خدا کی نظر میں سب سے زیادہ بے قیمت چیز۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس معاملہ کا تعلق اس انتہائی مخصوص چیز سے ہے جو انسان کا سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ ہے۔ اور وہ ہے کسی سے گہرا قلبی تعلق۔ یہ انسان کی سب سے زیادہ اعلیٰ متاع ہے۔ اسی گہرے قلبی تعلق کا صرف ایک خدا سے وابستہ ہو جانے کا نام توحید ہے۔ اگر یہ گہری وابستگی خدا کے سوا کسی اور سے ہو تو اسی کا نام شرک ہے۔
اس گہرے قلبی تعلق کا اظہار دو قسم کے جذبات کی صورت میں ہوتا ہے۔ ایک محبت، اور دوسرے خوف۔ قرآن میں موحد انسان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کو سب سے زیادہ محبت صرف ایک خدا سے ہوتی ہے (البقرۃ، 2:165)، اور سب سے زیادہ خوف بھی صرف ایک خدا سے (التوبہ، 9:18)۔
یہ حب شدید اور خوف شدید صرف اس ہستی کا حق ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے، جو اس کا مالک اور رب ہے۔ جو آدمی یہ مخصوص تعلق کسی اور سے قائم کرے تو اس نے شرک کیا۔ اس نے وہ چیز کسی اور کو دے دی جو صرف ایک خدا کا حصہ تھی۔
آدمی کو جس چیز سے یہ گہرا قلبی تعلق ہو جائے وہ ہر لمحہ اس کے بارے میں سوچتا ہے۔ اس کے جذبات میں وہی ہر وقت سمایا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اسی کو پانے سے خوش ہوتا ہے، اس سے محرومی کا اندیشہ اس کو تڑپا دیتا ہے۔ اس کے دل میں شوق کا طوفان اُٹھتا ہے تو اسی کے لیے اُٹھتا ہے۔ اس کو چھننے کا خوف ہوتا ہے تو اسی سے۔ وہ پانے کی اُمید رکھتا ہے تو اسی سے۔ اس کی آنکھیں روتی ہیں تو اسی کو یاد کر کے روتی ہیں۔ اس کی سوچ پر غلبہ رہتا ہے تو صرف اسی ایک کا غلبہ رہتا ہے۔ اس کا وجود کسی کے آگے ڈھ پڑتا ہے تو وہ صرف یہی ایک اعلیٰ اور برتر ذات ہوتی ہے۔
اسی لطیف انسانی جذبہ کو عبودیت کہا جاتا ہے۔ اس جذبۂ عبودیت میں خدا کسی کی شرکت کو گوارا نہیں کرتا۔ اس جذبۂ عبودیت کا مستحق صرف ایک خدائے عظیم ہے، اس کے سوا کوئی نہیں جو ادنیٰ درجہ میں بھی اس کا مستحق ہو۔
