کنورزن— ایک صحت مند تاریخی عمل
غالباً 1990ء میں میں نے ایک ہندوستانی رائٹر کی ایک کتاب پڑھی تھی۔ اس کا نام کنورزن کی سیاست (Politics of Conversion) تھا۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے کہاکہ اس کتاب سے مجھ کو صرف ایک اختلاف ہے۔ وہ یہ کہ کتاب کا نام (ٹائٹل) درست نہیں۔ اس کا صحیح نام ہونا چاہیے: کنورزن کو سیاسی بنانا (Politicisation of Conversion) یعنی ایک سادہ فطری حقیقت کو سیاسی رنگ دے کر اس میں غیر ضروری طور پر سنسنی خیزی پیدا کرنا۔
کنورزن کیا ہے۔ عام طور پر کنورزن کو مذہب بدلنے (proselytism) کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ کنورزن اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کنورزن فطرت کا ایک آفاقی قانون ہے۔ وہ ایک صحت مند تاریخی عمل ہے جو ناگزیر طور پر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ کنورزن کو روکنے کی کوشش کرنا گویا تاریخ کو روکنے کی کوشش کرنا ہے اور کوئی بھی اتنا طاقتور نہیں کہ وہ تاریخ کے عمل کو روک سکے۔ کنورزن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دو چیزوں کے ٹکراؤ سے ایک اور چیز کا پیدا ہونا ہے۔ یہ فطرت کا قائم کردہ ایک آفاقی قانون ہے جو خود اپنے زور پر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔
انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عمل اس کے اندر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ کارل مارکس نے اس کو غلط طور پر جدلیاتی مادیت (dialectical materialism) سے تعبیر کیا تھا۔ زیادہ صحیح طور پر یہ ڈائیلاگ- کنورزن پراسس ہے۔ یعنی جب دو فکری نظام کے درمیان بحث و تبادلہ ہوتا ہے تو اس کے بعد ایک فکری انقلاب برآمد ہوتا ہے۔
ڈائیلاگ- کنورزن پراسس کا یہ عمل ہی تمام انسانی ترقیوں کا واحد زینہ ہے۔ جب بھی دنیا میں کوئی تہذیبی انقلاب آیا ہے یا کسی انسانی گروہ نے اٹھ کر کوئی تخلیقی کارنامہ انجام دیا ہے تو وہ ہمیشہ اسی ڈائیلاگ۔ کنورزن پراسس ہی کے ذریعہ ظہور میں آیا ہے۔
اس عمل کی کوئی ایک صورت نہیں۔ یعنی یہ مذہبی بھی ہو سکتا ہے اور غیر مذہبی بھی۔ پچھلے ڈیڑھ ہزار سال کی تاریخ میں اس کی دو بڑی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ ایک مذہبی کنورزن کی صورت میں اور دوسری سیکولر کنورزن کی صورت میں۔
عربوں کی تاریخ مذہبی کنورزن کی مثال ہے۔ چھٹی صدی عیسوی تک عرب ایک مشرکانہ نظام کے تحت محدود قبائلی زندگی گزار رہے تھے۔ اس کے بعد ساتویں صدی کے آغاز میں اسلام یعنی دین توحید کا ظہور ہوا۔ اس کے بعد دین شرک اوردین توحید کے درمیان زبردست ڈائیلاگ (بحث و مباحثہ) شروع ہوا۔ یہ ڈائیلاگ مزید شدت اختیار کر کے جارحانہ تصادم تک پہنچ گیا۔ اس ڈائیلاگ اور تصادم کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ عربوں کے اندر ایک نئی سوچ ابھری۔ بڑھتے بڑھتے وہ ایک عظیم فکری انقلاب بن گئی۔
اس ذہنی انقلاب یا اس فکر نو کی دریافت کا نتیجہ یہ ہوا کہ عربوں کے اندر ایک نئی شخصیت ابھری۔ ایک یورپی مورخ کے الفاظ میں، ان میں کا ایک ایک شخص اس طرح انقلابی شخصیت بنا کہ پوری قوم ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) بن گئی (ہسٹری آف عربس از فلپ ہٹی، صفحہ 142)۔ ہیروؤں کی اس قوم نے صرف پچاس سال کے اندر وہ تاریخی واقعہ برپا کیا جس کو ایک مورخ نے (miracle of all miracles) معجزات کا معجزہ قرار دیا ہے (ہسٹاریکل رول آف اسلام از ایم این رائے، صفحہ 4)۔ بریفالٹ نے اس کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے کہ عربوں کے بغیر جدید مغربی تہذیب سرے سے وجود ہی میں نہیں آ سکتی تھی:
But for the Arabs, the western civilization would never have arisen at all. (The Making of Humanity by Briffault, p. 190)
دوسری مثال یورپ کی مسیحی قوموں کی ہے۔ صلیبی جنگوں (crusades) کے بعد کئی سو سال کے تاریخی عمل کے دوران یہاں بھی ایک کنورزن ہوا۔ یہ کنورزن مذہبی نہیں تھا بلکہ ایک قسم کا سیکولر کنورزن تھا۔ چرچ اور سائنس کے درمیان زبردست مقابلہ پیش آیا۔ اس مقابلے کی ایک روداد مندرجہ ذیل کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے:
Conflict between Science and Religion
یہ مقابلہ ڈائیلاگ اور ٹکراؤ کی صورت میں کئی سوسال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ یورپی قوموں کے اندر ایک نیا فکری انقلاب آیا جس میں انھوں نے قدیم کو چھوڑا اور جدید کو اختیار کر لیا۔ اس انقلاب کو عام طور پر نشاۃ ثانیہ (renaissance) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اس انقلاب نے یورپی قوموں کو اس قابل بنایا کہ وہ تاریخ کا عظیم ترین کارنامہ انجام دے سکیں۔ وہ تاریخ انسانی کو روایتی دور سے نکال کرسائنسی دور میں پہنچا دیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان کا دماغ لامحدود طاقتوں کا ایک قدرتی خزانہ ہے۔ عام حالات میں یہ دماغ سویا ہوا رہتا ہے۔ یہ صرف خارجی جھٹکے ہیں جو اس کو بیدار کرتے ہیں۔ یہ شاک ٹریٹمنٹ کا ایک عمل ہے۔ جتنا بڑا شاک ہوا اتنا ہی بڑا ذہنی انقلاب انسان کے اندر پیدا ہو گا۔ یہ شاک ٹریٹمنٹ انسان کے اندر وہ چیز پیدا کرتا ہے جس کو نفسیات کے علماء دماغی طوفان (brainstorming) کہتے ہیں۔ یہ دماغی طوفان آدمی کے اندر ایک نئی فکری تبدیلی ، ایک نیا کنورزن ، وجود میں لاتا ہے۔ یہ کنور زن کسی قوم کے افراد کو ایک عام انسان سے اٹھا کر غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے اور پھروہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکے۔
مذہبی کنورزن اس پورے عمل کا ایک چھوٹا سا جزء ہے۔ تاہم جب ڈائیلاگ ۔ کنورزن پراسس چلتا ہے تو اس کو کسی حد کا پابند کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ لوگ فلاں فلاں قسم کا کنورزن کریں ، لیکن مذہبی کنورزن نہ کریں۔ یہ ایک لامحدود سیلابی عمل ہے۔ اور سیلاب جب آتا ہے تو وہ کسی حد بندی کو قبول نہیں کرتا۔
جہاں تک مذہبی کنورزن کا تعلق ہے وہ صرف غیر مذہب کو قبول کرنے کے ہم معنی نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی کنورزن کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک انرفیتھ کنورزن ، دوسری انٹرفیتھ کنورزن ۔ مثال کے طور پر سوامی وویکانند پہلے ایک ماڈرن قسم کے نریندر ناتھ تھے۔ پھر رام کرشنا پرم ہنس سے ان کا ذہنی ٹکراؤ ہوا جس کے بعد وہ سوامی وویکانند بن گئے۔ یہ داخلی کنورزن (انرفیتھ کنورزن) کی ایک مثال ہے۔
اس طرح اسی زمانے کے ایک اور بنگالی ڈاکٹر نشی کانٹ چٹوپادھیائے (حیدر آباد) کا فکری تصادم مختلف مذاہب سے ہوا۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔ انھوں نے پہلے فلسفہ کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک درجن بڑے بڑے مذاہب کا مطالعہ کیا۔ آخر میں وہ ایک فکری دریافت تک پہنچے۔ انھوں نے اپنے آبائی مذہب ہندوازم کو چھوڑکر اسلام قبول کر لیا۔ اور اپنا نام عزیز الدین رکھا۔ انھوں نے اپنے اس فکری ارتقا کی داستان ایک کتاب کی صورت میں لکھی ہے جس کا نام یہ ہےWhy I have Embraced Islam:۔ یہ انٹرفیتھ کنور زن کی ایک مثال ہے۔
یہ کنورزن کوئی یک طرفہ عمل نہیں ہے۔ یہ دوطرفہ بلکہ کئی طرفہ طور پر چلتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندستان میں کچھ ہندوؤں نے اپنا مذہب بدل کر مسیحی مذہب کو اختیار کر لیا ہے جب کہ یورپ اور امریکہ میں ہزاروں مسیحی اپنے مذہب کو چھوڑ کر ہندو بن گئے۔ آج انگریزی میں نکلنے والا سب سے بڑا ہندو اخبار انڈیا ابراڈ (India Abroad) ہے جو امریکہ سے شائع ہوتا ہے۔ اس کا مالک اور ایڈیٹر ایک ہندو کنورٹ ہے۔ انھوں نے مسیحیت کو چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کر لیا اور پھر انھوں نے یہ کثیر الاشاعت ہندی اخبار نکالا۔
کسی قوم کو دوبارہ اٹھانے کے لیے عام طور پر تحریک احیا (revivalism) پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ یعنی قوم کے ماضی کو یاد دلا کر اس کو دوبارہ زندہ کرنا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کی احیائی تحریک کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ تاریخ میں غالباً کوئی ایک بھی قابل ذکر مثال موجود نہیں جب کہ صرف احیائے ماضی کی تحریک کے ذریعہ کوئی قوم دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ زندہ ہو کر کھڑی ہو گئی ہو۔ اس کی ایک مثال ہندستان ہے۔ ہندستان میں ہندو قوم کو بیدار کرنے کے لیے پچھلے کئی سو سال سے مسلسل احیائی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس میں بہت بڑی بڑی شخصیتوں کے نام ہیں۔ راجہ رام موہن رائے، سوامی وویکانند، آرووندو، مہاتما گاندھی وغیرہ۔ مگر لمبی مدت کی جدوجہد کے باوجود اس رخ پر ایک فی صد بھی کامیابی نہ ہو سکی۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ اس کا اُلٹا نتیجہ برآمد ہوا۔
آزادی کے دور میں پہنچ کر ہندو سماج میں اخلاقی اقدار کا وہ نظام بھی باقی نہ رہا جو پہلے اس کے اندر پایا جاتا تھا۔ پہلے ایک جھوٹ بولنے پر یدھشتر کا اڑنے والا رتھ زمین پر گر پڑتا تھا ، مگر آج کے یدھشتر صبح و شام جھوٹ بولتے ہیں اس کے باوجود ان کا رتھ نہایت تیزی کے ساتھ بلند فضاؤں میں اُڑ رہا ہے۔ ماضی کے برعکس، آج کا ہندستانی سماج صرف ایک کرپشن (بھرشٹاچار) کا سماج بن گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کے اندر انقلابی روح کبھی بھی ’’ماضی کی طرف واپسی‘‘ سے نہیں پیدا ہوتی۔ یہ صرف جدید کی دریافت سے پیدا ہوتی ہے۔ انقلابی شخصیت کا ظہور قدیم کی طرف واپسی سے نہیں ہوتا بلکہ جدید کی طرف اقدام سے ہوتا ہے اور احیائی تحریک اپنی آخری تعریف کے مطابق صرف قدیم کی طرف واپسی کے ہم معنی ہے۔ وہ جدید کی دریافت یا جدید کی طرف اقدام کے ہم معنی بلاشبہ نہیں۔
سوامی وویکانند نے کہا تھا کہ ہندو قوم ورلڈ لیڈر بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ مگر یہ انقلابی واقعہ ’’احیائے ماضی‘‘ جیسی کسی تحریک کے ذریعہ ظہور میں نہیں آسکتا جیسا کہ اب تک نہیں ہوا۔ ایسا واقعہ جب بھی پیش آئے گا وہ جدید کی دریافت یا نئے فکری انقلاب کے ذریعہ ہو گا۔ خواہ یہ فکری انقلاب مذہب کنورزن کی صورت میں ہو یا سیکولر کنورزن کی صورت میں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ کنورزن کا یہ واقعہ صرف انفرادی سطح پر نہ ہو بلکہ عوامی سطح پر ہو۔ اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی قوم کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے اور تاریخ عالم میں اپنا نام روشن کرے۔
خلاصہ یہ کہ کنورزن محدود طور پر مذہبی تبدیلی کا معاملہ نہیں، یہ دریافت نو کا معاملہ ہے۔ اور نفسیات اور تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی فرد یا کسی قوم کو متحرک کرنے کے لیے نیز اس کے اندر اخلاقی انقلاب لانے کے لیے سب سے زیادہ جو چیز موثر ہوتی ہے، وہ یہی دریافت (discovery) ہے۔ یہ احساس کہ میں نے ایک ایسی سچائی دریافت کی ہے جو اب تک مجھے معلوم نہ تھی، انسان کی تمام سوئی ہوئی طاقتوں کو جگا دیتا ہے۔ وہ ایک عام انسان کی سطح سے اُٹھ کر ایک ہیرو انسان بن جاتا ہے۔ اسی قسم کے ہیرو انسان ہیں جو سمندروں میں چھلانگ لگاتے ہیں، جو پہاڑوں کو پھاند جاتے ہیں، جو اپنے ہیروانہ کردار کے ذریعہ تاریخ کو نئے دور میں داخل کر دیتے ہیں۔ آج انسانی تاریخ دوبارہ ایک تعطل (deadlock) سے دوچار ہے۔ تاریخ کو دوبارہ انتظار ہے کہ کوئی قوم دریافت نو کے تجربہ سے گزرے۔ وہ نئی انسانی طاقتوں سے بھرپور ہو کر تاریخ انسانی کو وہ دھکا دے، جو اس کو ایک نئے اور بہتر دور میں پہنچا دے۔
