مذہبی اصلاح
مذہب انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ انسان پیدائشی طور پر ایک مذہب چاہتا ہے۔ مگر وہ اسلام سے پہلے اپنی صحیح اور فطری صورت میں انسان کے پاس موجود نہ تھا۔ اسلام نے انسان کو صحیح اور فطری مذہب عطا کیا۔
اسلام سے پہلے جو مذہبی نظامات دنیا میں موجود تھے، ان کے مطابق انسان براہ راست خدا تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ انسان کے لیے صرف یہ ممکن تھا کہ وہ مخصوص مذہبی طبقہ(کلرجی) یا مفروضہ مقرب شخصیتوں کے واسطہ سے خدا کے ساتھ اپنا رشتہ قائم کرے۔ یہ صورت حال فطری تقاضہ کے خلاف تھی۔ کیونکہ انسان کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ وہ بلاواسطہ خدا سے مل سکے۔ اسلام نے اس انسانی تقاضے کی تکمیل کی۔ قرآن میں یہ اعلان کیا گیا کہ— اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں۔ پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔ تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں تاکہ وہ ہدایت پائیں(2:186)۔
یہی معاملہ عبادات کا تھا۔ قرآن میں قدیم اہل عرب کے بارے میں کہا گیا ہے کہ:اور بیت اللہ کے پاس ان کی نماز سیٹی بجانے اور تالی پیٹنے کے سوا اور کچھ نہ تھی (8:35)۔اس زمانے میں پوری مذہبی دنیا کا حال یہ تھا کہ عبادت کے ظاہری ڈھانچہ کو اس کی داخلی روح سے الگ کر دیا گیا تھا۔ مزید بگاڑ کے نتیجہ میں عبادت کا ڈھانچہ بھی اپنی اصل صورت میں باقی نہ تھا۔ اسلام نے عبادات کے نظام کو اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کیا۔
یہی معاملہ اخلاق کا تھا۔ کچھ نمائشی عادات و اطوار کو اخلاق سمجھ لیا گیا تھا۔ اسلام نے اخلاقی نظام کی تکمیل کی۔ اخلاق کو اس کی حقیقی اسپرٹ کے ساتھ زندہ کیا۔ پیغمبر اسلامﷺ کی زندگی کی صورت میں اخلاق کا ایک زندہ عملی نمونہ قائم کیا۔ مزید یہ کہ اخلاق کو سماجی سلوک سے اوپر اٹھا کر اس کو ربانی سلوک کا درجہ عطا کیا۔
اسی طرح اجتماعی اور سیاسی نظام کی تشکیل میں اسلام کا نہایت اہم حصہ ہے۔ اسلام سے پہلے ساری دنیا میں بادشاہت کا نظام قائم تھا۔ اس نظام کے تحت سیاسی اور اجتماعی معاملات زیادہ تر ایک حکمراں کی مرضی کے تابع سمجھے جاتے تھے۔ اسلام نے اجتماعی اور سیاسی معاملات کو اس کے بجائے خدا کے حکم کے تابع کیا۔ اسی کے ساتھ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے اجتماعی معاملات اور ریاستی نظام کا ایک صالح نمونہ قائم کر دیا جو لوگوں کے لیے عملی نمونہ کا کام دیتا رہے۔
اسلام نے ایک طرف ان امور کی اصلاح کی جو خالص مذہبی امور سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری طرف زندگی کے بقیہ معاملات کو مذہب کے صالح اصولوں کی بنیاد پر قائم کیا۔ اس طرح اسلام نے انسان کی پوری زندگی کو خدا کے رنگ میں رنگ دیا۔ اب انسان کی پوری زندگی، اپنے تمام شعبوں کے ساتھ، خدا کی عبادت بن گئی۔
