عوام اور حاکم کے درمیان قانونی برابری
حضرت علی بن ابی طالب اسلام کے چوتھے خلیفہ تھے۔ انہیں غیر معمولی اقتدار حاصل تھا، مگر وہ لوگوں کے درمیان ایک عام انسان کی طرح رہتے تھے۔ نہ ان کا معیار زندگی دوسروں سے مختلف تھا اور نہ ان کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ قانونی حقوق حاصل تھے۔
ترمذی، حاکم اور ابونعیم نے حضرت علی بن ابی طالب کا ایک واقعہ اس طرح نقل کیا ہے۔ حضرت علی کے پاس ایک زرہ تھی جو اتفاق سے کھوئی گئی۔ ایک روز وہ کوفہ کے بازار کی طرف گئے۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک نصرانی زرہ بیچ رہا ہے۔ قریب جا کر دیکھا تو یہ وہی زرہ تھی جو ان سے کھوئی گئی تھی۔
حضرت علی اس وقت ممالک اسلامی کے حکمراں تھے۔ وہ چاہتے تو اسی وقت زرہ پر قبضہ کر سکتے تھے۔ مگر انھوں نے اپنے آپ کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا۔ انھوں نے نصرانی سے کہا کہ یہ زرہ میری ہے۔ تم اس کو لے کر قاضی کے پاس چلو۔ وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس وقت مسلمانوں کے قاضی شُریح تھے۔ چنانچہ دونوں بازار سے چل کر قاضی شُریح کے یہاں پہنچے۔
شُریح نے بحیثیت قاضی کے پوچھا کہ امیر المومنین، آپ کیا کہتے ہیں۔ حضرت علی نے کہا کہ یہ زرہ میری ہے، وہ مجھے واپس دلائی جائے۔ شُریح نے نصرانی سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو۔ اس نے کہا کہ امیر المومنین غلط بیانی کر رہے ہیں، یہ زرہ میری ہے۔ قاضی شُریح نے حضرت علی سے کہا کہ محض آپ کے دعوے کی بنا پر میں ایسا نہیں کر سکتا کہ زرہ اس سے لے کر آپ کو دیدوں۔ آپ اپنے دعوے کے حق میں ثبوت لایئے۔
حضرت علی نے کہا کہ شُریح کا مطالبہ درست ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے حق میں دو گواہ پیش کیے۔ ایک، اپنے غلام قنبر کو، اور دوسرے، اپنے لڑکے حسن کو۔ قاضی شُریح نے کہاکہ میں قنبر کی گواہی کو تو مان رہا ہوں، مگر میں حسن کی گواہی کو نہیں مانتا۔ حضرت علی نے کہا کہ تم حسن کی گواہی نہیں مانتے، حالانکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن اور حسین نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔ قاضی شُریح نے کہا کہ وہ الگ چیز ہے۔ دنیوی معاملات میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ والد کے حق میں اولاد کی گواہی معتبر نہیں۔
حضرت علی خلیفہ تھے اور وہ قاضی کو معزول کرنے کا اختیار رکھتے تھے۔ مگر انھوں نے قاضی کے فیصلہ کے آگے سر جھکا دیا۔ اور زرہ کے بارے میں اپنا مطالبہ واپس لے لیا۔ نصرانی یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ چیخ اٹھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ پیغمبروں کے احکام ہیں کہ امیر المومنین ایک عام آدمی کی طرح قاضی کی عدالت میں آئے اور قاضی اس کے خلاف فیصلہ کرے۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا او ر کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ پھر اس نے کہا کہ یہ زرہ واقعتاً علی کی ہے۔ ایک بار وہ علی کے اونٹ سے گر گئی تھی تو میں نے اس کو اٹھا لیا۔ اب حضرت علی نے وہ زرہ اسی شخص کو دے دی اور اس کو مزید سات سو درہم عطا کیے۔ اس کے بعد وہ مسلمان ہو کر حضرت علی کے ساتھ رہا یہاں تک کہ صفین کے معرکہ میں شہید ہوگیا (حلیۃ الاولیاء لابی نعیم، جلد 4، صفحہ 141-140)۔
یہ واقعہ اس اصول کی اعلیٰ ترین مثال ہے کہ حکمران افراد اور عام انسان دونوں قانون کی نگاہ میں برابر ہیں۔ قانون کی عدالت میں دونوں کو یکساں حاضر ہونا چاہیے اور دونوں کے اوپر قانون کا فیصلہ یکساں طورپرنافذ ہونا چاہیے۔
