پیغمبر اسلام، پیغمبر حکمت
قرآن میں پیغمبر اسلام کے بارے میں متعدد آیتوں میں یہ بات کہی گئی ہے کہ آپ کا ایک کام یہ تھا کہ آپ انسان کو خدا کی کتاب پہنچائیں۔ آپ کا دوسرا کام یہ تھا کہ آپ لوگوں کو حکمت کی تعلیم دیں۔ یہ دونوں کام ایک دوسرے سے الگ بھی تھے، اور ایک دوسرے سے متعلق بھی۔
حکمت کا لفظی مطلب ہے وزڈم (wisdom)۔ زندگی کے معاملات کو درست طور پر انجام دینے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت جس چیز کی ہے، وہ وزڈم ہے۔ وزڈم ہو تو آدمی اس قابل ہوتا ہےکہ وہ درست منصوبہ بنائے، اور وزڈم نہ ہو تو وہ غلط منصوبہ بنائے گا، جو مسئلہ کو بڑھانے والا ہوگا، نہ کہ مسئلہ کو حل کرنے والا۔
انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے اکثر حالات کا شکار ہوجاتا ہے۔ وہ متاثر ذہن سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ جہاں پر امن تدبیر کے ذریعہ مسئلہ حل کرنا چاہیے، وہاں وہ تشدد کا طریقہ اختیار کرلیتا ہے۔ جہاں رد عمل (reaction) سے بچ کر اپنا منصوبہ بنانا چاہیے، وہاں وہ ردعمل (reaction) کا شکار ہوکر ایسا منصوبہ بناتا ہے جو مسائل میں صرف اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔
اس طرح کے مواقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے پاس دانش مندی کا اصول ہو۔ اس کے پاس ایک ایسا رہنما اصول ہو، جو اس کو ہر موقع پر درست راستے کی طرف رہنمائی کرتا رہے۔ اسی کا نام حکمت (wisdom) ہے، اور اسی حکمت کے اصول کو بتانا، پیغمبر کا سب سے زیادہ اہم کام ہے۔