زندگی کی تلخیاں
آپ کسی آدمی سے ملیے۔ تھوڑی دیر کی بات چیت کے بعد آپ پائیں گے کہ اس کے پاس ایک تلخ یاد ہے، اور اس کی بنا پر وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں ایک بدقسمت انسان ہوں۔ بظاہر وہ اپنی باتوں سے یہ تاثر دیتا ہے کہ دوسرے لوگ خوش قسمت ہیں۔ یہ صرف میں ہوں، جو بدقسمتی کے حالات میں جی رہا ہوں۔مگر یہ ایک بے خبری کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کے لیے زندگی تلخیوں کے تجربات کا نام ہے۔ کسی کے لیے ایک قسم کا تلخ تجربہ، اور کسی کے لیے دوسرے قسم کا تلخ تجربہ۔ اس دنیا میں کوئی بھی شخص تلخ تجربے سے بچا ہوا نہیں ۔
مگر ہوتا یہ ہے کہ کوئی عورت یا مرد جس تلخ تجربے سے وہ خود گزررہا ہو، اس کو وہ ذاتی طور پر محسوس کرتا ہے، جب کہ دوسرے انسان کا تلخ تجربہ اس کے لیے صرف ایک دور کی سنی سنائی خبر ہوتی ہے۔ اپنا تلخ تجربہ اس کے لیے خود اس کے اپنے سینے کا درد ہوتا ہے، جب کہ دوسرے کا تلخ تجربہ اس کے لیے اپنا درد نہیں ہوتا۔ اس بنا پر وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں تو تلخ تجربے کو بھگت رہا ہوں، جب کہ دوسرے لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں۔ یہ فرق صرف سوچ کا فرق ہوتا ہے، نہ کہ حقیقت کا فرق۔ یہ فرق اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی ایک حقیقت سے باخبر ہوتا ہے، اور دوسری حقیقت سے وہ بے خبری کا شکار ہوتا ہے۔
یہ ظاہرہ اتنا زیادہ عام ہے کہ شاید اس سے کوئی بھی مرد یا عورت بچا ہوا نہیں۔ خوشی دراصل اسی کا نام ہے کہ آدمی اس بے خبری سے باہر آئے۔ وہ غور و فکر کے ذریعے اس حقیقت کو جان لے کہ زندگی کی تلخیاں زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ زندگی ایک تلخ تجربہ ہے۔ تلخی کے احساس سے صرف وہ شخص خالی ہوسکتا ہے، جو موت کا شکار ہوکر عملاً اس دنیا سے رخصت ہو جائے۔ اپنی بے خبری کو توڑیے، اور پھر ایسا نہیں ہوگا کہ آپ اس غلط فہمی کے شکار ہوں کہ آپ ایک بدنصیب انسا ن ہیں، اور دوسرے تمام لوگ خوش نصیب انسان ۔
