قساوت کیا ہے
قرآن کی سورۃ الحدید میں اہل ایمان کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے:أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ وَما نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ مِنْ قَبْلُ فَطالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فاسِقُونَ (57:16)۔ یعنی،کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے جو نازل ہوچکا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔
قرآن کی اِس آیت میں کسی اُمت کی اُس حالت کو بیان کیا گیا ہے، جو کہ امت کی کئی نسلیں گزرنے پر بعد کے لوگوں میں لازماً پیدا ہوتی ہے۔ اِس حالت کا دوسرا نام زوال (degeneration) ہے۔ کسی امت پر جب زوال آتا ہےتو لوگوں کے دل سخت ہو جاتے ہیں۔ دل کی اِس سختی (قساوت)کو قرآن میں سورۃ البقرۃ میں پتھر کی حالت سے تعبیر کیا گیا ہے (2:74)۔
قساوت کیا ہے۔وہ در اصل دینی اعتبار سے افراد ِ امت کا بے روح (spritless)ہو جانا ہے۔ بعد کی نسلوں میں جب زوال کی یہ حالت آتی ہےتو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ دین سے علاحدگی کا اعلان کر دیں،بلکہ صرف یہ ہوتا ہےکہ ان کی دین داری محض ظاہری فارم (form)تک محدود ہو جاتی ہے۔ جہاں تک داخلی روح کا تعلق ہے ، وہ ان کےاندر موجود نہیں ہوتی۔ امت کی بعد کی نسلوں میں زوال کی یہ حالت فطرت کے ایک قانون کے تحت ظہور میں آتی ہے۔ زوال کے اِس واقعے کا پیش آنا کوئی غیر فطری بات نہیں ہے۔ اصل برائی یہ ہےکہ جب زوال کی یہ حالت پیش آئے تو اُس وقت اس کی اصلاح کی صحیح تدبیر نہ کی جائے۔ بر وقت صحیح تدبیر سے امت دوبارہ اپنی اصل مطلوب حالت پر قائم ہو سکتی ہے،لیکن اگر بر وقت صحیح تدبیر نہ کی جائے تو اس کے بعد قساوت کی حالت باقی رہتی ہے۔ جو آخر کار ’فسق‘ تک پہنچ جاتی ہے ، یعنی پوائنٹ آف نور ٹرن (point of no return)تک۔
