کامیاب انسان

کامیاب انسان کون ہے۔ کامیاب انسان کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر مستقبل بینی کی صفت پائی جائے، اور مستقبل بینی کثرتِ مطالعہ اور کثرتِ غور وفکر سے پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً رسول اللہ نے اپنی تحریک میں کئی بار ایسا کیا کہ بظاہر پسپائی کا طریقہ اختیار کیا۔ کیوں کہ آپ کی مستقبل بینی نے آپ کو بتایا کہ بظاہر وقتی پسپائی میں آپ کے لیے پیش قدمی کا راستہ کھلے گا۔

مثال کے طور پر پیغمبر اسلام ﷺ نے تیرہ سال تک مکہ میں اپنا دعوتی مشن چلایا۔ لیکن معاملہ جب خراب ہونے لگا ، یعنی مکہ میں آپ کا رہنا دشوار ہوگیا تو آپ نے مکہ سے ہجرت کا راستہ اختیار کیا۔ اس کے بعد جب آپ مدینہ آگئے تو یہاں بھی اہل مکہ نے آپ کو جنگ میں الجھانا چاہا۔ لیکن آپ نے دوبارہ حدیبیہ کے مقام پر یک طرفہ طورپر فریقِ ثانی کی شرطوں کو مان کر ان سے دس سالہ ناجنگ معاہدہ کرلیا۔ اس سے تعارفِ اسلام کا میدان آپ کے لیے پوری طرح کھل گیا۔ اس کے بعد جو نتیجہ سامنے آیا، وہ اسلامی تاریخ میں فتح مبین (الفتح، 48:1) کے الفاظ میں بیان کیا گیاہے، یعنی کھلی فتح۔  

مستقبل بینی کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے اندر آبجیکٹیو تھنکنگ (objective thinking)موجود ہو۔آبجیکٹیو تھنکنگ کا مطلب ہے— جذبات کی بنیاد پر چیزوں کو دیکھنے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر چیزوں کو دیکھنا

When you do something objectively, you do it with an open mind, considering the facts rather than your personal feelings.

آبجیکٹیو تھنکنگ سے دوری کا سب سے بڑا سبب کسی چیز کے بارے میں غلو آمیز تصور رکھنا ہے۔ یعنی کنڈیشنڈ مائنڈ کے ساتھ چیزوں کو دیکھنا۔ اس قسم کا انحراف یا ڈسٹریکشن (distraction) کسی انسان کے لیے بے حد سنگین ہے۔ وہ انسان کو اس صفت سے محروم کردیتا ہے کہ وہ چیزوں کو ایز اٹ از (as it is) دیکھ سکے،وہ چیزوں کو مواقع کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائے مسائل کے اعتبار سے دیکھنے لگتا ہے۔ جب کہ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان مواقع کو اَویل کرے۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion