ذکرِ جاری
صوفیوں کے یہاں خدا کے لیے ذکر جاری کا تصور ہے۔ یعنی دوامی طور پر ذکر کی حالت طاری رکھنا۔ذکر جاری کا تصور بجائے خود صحیح ہے۔ مگر صوفیا نے اس کو ضربِ جاری کے معنی میں لے لیا ہے، یہ ذکر جاری کی غلط تعبیر ہے۔
ذکرِجاری لفظی طور پر مطلوب نہیں، بلکہ اس کا معنی مطلوب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی معرفت آدمی کے ذہن میں اتنا زیادہ سما جائے کہ اس کو ہمیشہ خدا یاد آتا رہے۔ ہر واقعے، ہر لمحے کے حوالے سے اس کے لیے ہمیشہ خداوند ذوالجلال کی یاد تازہ ہوتی رہے۔
اس دنیا میں جو کچھ ہے، وہ سب خدا کا انعام ہے۔ ذرّہ سے لے کر آفتاب تک ہر چیز براہ راست خدا کا یک طرفہ عطیہ ہے۔ جب بھی آپ کوئی چیز دیکھتے ہیں، کسی چیز کا تجربہ کرتے ہیں تو وہ خدا کے انعام کا ایک تجربہ ہوتا ہے۔ انعام کے اس تجربہ میںمنعم (giver) کا اعتراف کرتے رہنا، یہی ذکر جاری ہے۔
