مثبت ذہن کے ساتھ جینا
مثبت نفسیات کے ساتھ جینا، ایک لفظ میں یہ ہے کہ آدمی دنیا میں اس یقین کے ساتھ جیے کہ اللہ رب العالمین اس کا خالق و مالک ہے، وہ رحیم و کریم ہے۔ وہ اپنے بندے کے ساتھ اس وقت بھی ہوتا ہے جب کہ کوئی دوسرا اس کے ساتھ نہیں ہوتا۔ وہ اس وقت بھی اپنے بندے کا مدد گار ہوتا ہے جب کہ کوئی انسان اس کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
ایک مسلم نوجوان مجھ سے میرے آفس میں ملے۔ انھوں نے مجھ سے یہ شکایت کی کہ وہ فلاں مسلمان سے ملنا چاہتے تھے، لیکن ان کو وقت نہیں ملا۔ میں نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے سمجھایا کہ جب انسان سے آپ کو ملاقات کا وقت نہ ملے، تو آپ اللہ کو یاد کیجیے۔ آپ یہ کہیے کہ انسان سے اگر ملاقات نہیں ہوسکی، کوئی بات نہیں، اللہ تو ہر وقت ملاقات کے لیے موجود ہے۔ یہ سوچ آپ کےیقین کو بڑھائے گی۔ یہ سوچ آپ کے ذہنی ارتقا میں اضافہ کرے گی۔ آپ انسان کو کھو کر اللہ کو پالیں گے۔ آپ کی محرومی آپ کو ایک نئی دریافت تک پہنچادے گی۔ آپ کا کھونا، آپ کے لیے ایک نئی دریافت کا ذریعہ بن جائے گا۔
یہ صرف کسی سے ملاقات کی حد تک نہیں ہے۔ بلکہ ہر ایک معاملے میں آپ یہی سوچ اختیار کیجیے۔ مثلاً کسی نے آپ کو کوئی چیز نہیں دی تو آپ سوچیے کہ خدا دینے والا ہے، وہ ہر وقت دینے کے لیے موجود ہے، اس وقت آپ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے۔ منفی انداز میں سوچنا، آدمی کی محرومی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس، مثبت انداز میں سوچنا آدمی کی ذہنی اور روحانی ارتقا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
ہر کھونے میں دوبارہ پانے کا راز چھپا ہوا ہے۔ انسان کو اللہ نے سوچنے کی طاقت دی ہے۔ یہ طاقت بلاشبہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ اپنے ذہن کو ہمیشہ زندہ رکھیے، اور آپ دیکھیں گے کہ آپ کا ذہن آپ کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اس سرمایہ سے بڑی چیز آپ کے لیے نہیں ہے۔ اس سرمایہ کو استعمال کیجیے، اور آپ دیکھیں گے کہ آپ کے ذہنی سرمایے نے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا روحانی انسان بنا دیا ہے۔
