تواضع کی صفت
تواضع (modesty)موجودہ دنیا میں سب سے زیادہ قابلِ قدر انسانی صفت ہے۔ اس سلسلے میں پیغمبر اسلام کی اہلیہ عائشہ (وفات 57 ھ) کا ایک بامعنی قول ان الفاظ میں آیا ہے:عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْإِنَّكُمْ لَتَدَعُونَ أَفْضَلَ الْعِبَادَةِ التَّوَاضُعَ (مصنف ابن ابی شَیبۃ، حدیث نمبر 34739)۔ یعنی، عائشہ نے کہا:بے شک تم لوگ ترک کرتے ہو افضل عبادت کو، یعنی تواضع۔
تواضع (modesty) دراصل اس صفت کا نتیجہ ہے، جو اپنی حقیقتِ واقعی کو سمجھنے کے نتیجے میں پیدا ہواتی ہے۔ تواضع تمام خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔ اس کے برعکس، دوسری صفت یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو حقیقت واقعہ سے زیادہ سمجھے۔ اس کو فخر کہتے ہیں۔ کسی آدمی کو پہچاننا ہو تو دو چیزوں کے ذریعے اس کی شخصیت کو پہچانا جاسکتا ہے۔ جس آدمی کے اندر فخر کی نفسیات ہو، وہ ہر اعتبار سے ایک غیر مطلوب شخصیت کا حامل ہوگا، اور جس آدمی کے اندر تواضع کی نفسیات ہو، اس کی شخصیت کے اندر تمام مطلوب اوصاف پائے جائیں گے۔جس آدمی کے اندر تواضع کی نفسیات پائی جائے، اس کا حال یہ ہوگا کہ وہ ہر چیز کو خدا کی نسبت سے دیکھے گا، نہ کہ انسان کی نسبت سے۔
کوئی آدمی ماڈسٹ (modest)کیسے بن سکتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ آدمی اپنے احتساب کا زیادہ سے زیادہ شائق بن جائے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر تعلم (learning) کی صفت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے وہ کسی نفسیاتی رکاوٹ کے بغیر دوسروں سے سیکھنے لگتا ہے۔ کسی قسم کی بڑائی کا جذبہ اس کے لیے ذہنی ترقی میں رکاوٹ نہیں رہتا۔ وہ اتنا زیادہ متلاشی (seeker) بن جاتا ہے کہ جب بھی کوئی وزڈم کی بات اس کے سامنے آتی ہے، تو وہ کسی رکاوٹ کے بغیر فوراً اس کو قبول کرلیتا ہے۔
تواضع (modesty) انسان کی بنیادی اخلاقی صفت ہے۔ جس آدمی کے اندر ماڈسٹی ہو گی، اس کے اندر بقیہ تمام اخلاقی صفات ضرور موجود ہوں گے، اور جس آدمی کے اندر ماڈسٹی کی صفت نہ ہو، تو وہ یقینی طور پر دوسرے تمام اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے خالی ہوگا۔
