خالق کی طرف واپسی
قرآن میں زندگی کی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى، وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى ، ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَى ، وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنْتَهَى (53:39-42)۔ یعنی، انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کمایا، اور یہ کہ اس کی کمائی عنقریب دیکھی جائے گی، پھر اس کو پورا بدلہ دیا جائے گا، اور یہ کہ سب کو تمہارے رب تک پہنچنا ہے۔
اللہ رب العالمین نے انسان کو ایک منصوبہ کے تحت پیدا کیا ،اور اس کو زمین جیسے استثنائی کرہ پر آباد کیا۔زمین سولر سسٹم کا ایک پارٹ ہے۔ اس دنیا میں ہر چیزکسٹم میڈ (custom-made) انداز میں بنائی گئی ، اور یہاں انسان کو پوری آزادی دی گئی۔ یہاں کے ماحول میں فرشتوں کی نگرانی میں ان افراد کا انتخاب کیا جارہا ہے، جو خالق کے تخلیقی پلان کو سمجھیں، او ر اس کے مطابق، سیلف ڈیسپلنڈ لائف (self-disciplined life) گزار کر اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ جنت کی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں۔
خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، یہ ایک فطری حقیقت کا معاملہ ہے۔ لیکن کچھ لوگوں نے اس کو شاعرانہ تعبیر کے ذریعے رومانٹک تخیل بنا دیا ۔ مثلاً فخرالدین عراقی (592-688 ھ)ایک فارسی صوفی شاعر اور فلسفی تھا۔ وہ ایران میں پیدا ہوا اور شام میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کی ایک نظم کا ایک شعر یہ ہے:
به طواف کعبه رفتم به حرم رهم ندادند که برون در چه کردی، که درون خانه آیی؟
یعنی میں کعبہ کے طواف کےلیے گیا ، مگر مجھ کو اس میں داخلے کی راہ نہیں ملی، اور آواز آئی کہ باہر تم نے کیا کیا ہے کہ اندر آنے کی کوشش کررہے ہو۔ اس شعر میں شاعر نے ایک عبادتی معاملے کو رومانٹک تصورکے روپ میں ڈھال دیا ہے۔ عبادت ایک حقیقی تجربہ ہے۔ اس حقیقت کو شاعر نے رومانی تخیل کی زبان میں بیان کیا ہے۔
