انسان ، اعلیٰ انسان
مسٹر منوہر پاریکر گوا کے چیف منسٹر تھے۔ ان کی پیدائش 31دسمبر1955کو گوا میں ہوئی، اور 17مارچ 2019 کو چیف منسٹر رہتے ہوئے کینسر سے ان کی وفات ہوگئی۔ وہ چار بار گوا کے چیف منسٹر رہے، اور ایک مرتبہ مرکزی وزیر برائے ڈیفنس بھی رہے۔ وہ انڈیا کے ایک مقبول سیاست داں تھے۔ ان کی وفات پرآئی آئی ٹی ممبئی کے ایکٹنگ ڈائریکٹر پروفیسر اے کے سریش نے کہا کہ ان کے جیسا آدمی ملین میں ایک ہوتا ہے:
On Monday evening, a day after the former chief minister’s demise, IIT-Bombay held a condolence event in his honour. The acting director, Professor AK Suresh, described the loss as not only a "void in the political arena, but also one in humanity". "People like him are one in a million, and the values that IIT aims to instill within its students are those that he imbibed within himself, and in doing so he has made IIT proud." said Suresh. (The Times of India, New Delhi, Mar 19, 2019, p. 11)
وہ با اخلاق اور امانت دار (honest) آدمی تھے۔ سیاست میں رہتے ہوئےانھوں نے بہت سے اچھے کام کیے۔ان کے بارے میں بہت سے واقعات بیان کیے جاتے ہیں، جو ان کی ایمانداری اور ذمہ داری کے ثبوت ہیں، اور جس سے ان کی شخصیت کا اندازہ ہوتاہے۔
مثلاً ایک مرتبہ ایک ناکابندی پر دیر رات کو پولیس والے نے ایک گاڑی کو روکا، اور پوچھا کہ اتنی رات کو کیا کررہے ہو۔ یہ کار والے آدمی گوا کے سی ایم مسٹر پاریکر تھے، جو بغیر ریڈ بتی کی گاڑی میں سیکورٹی کے بغیر سامنے والی سیٹ پر بیٹھ کر جارہے تھے، جس وجہ سے پولیس والا ان کو پہچان نہیں پایا۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے ، وہ پنجی (Panji)کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں سادہ انداز میں گئے۔ وہاں پر موجود سیکورٹی گارڈ ان کو پہچان نہیں پایا، اور روٹین کے مطابق ان کو عام آدمی کی طرح جانچ کے مراحل سے گزار کر اندر داخل ہونے دیا۔ انھوں نے بغیر کسی پس و پیش کے رول کو فالو کیا۔بعد میں جب واچ مین کو حقیقت معلوم ہوئی تو اس کو لگا کہ اب اس کی نوکری چلی جائے گی، مگر مسٹر پاریکر نے اس کی ہمت افزائی کی، اور کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔
ایک مراٹھی نیوز ویب سائٹ PuneriSpeaksنے17مارچ 2019کو ان کو یاد کرتے ہوئے حسبِ ذیل باتیں لکھی ہیں:
’’مسٹر منوہر پاریکر ہمیشہ اپنے اسکوٹر پر وزارت اعلیٰ کی آفس جاتے تھے۔ ایک سادہ زندگی گزارنے والے منوہر پاریکر کی یہی پہچان تھی۔ اپنی اسکوٹر پر ہیلمٹ پہن کر وہ پنجی میں چکر لگاتے ہوئے وزارت پہنچا کرتے تھے۔ باقی وزرائے اعلیٰ کی طرح کبھی ان میں دکھاوا نہیں تھا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ منوہر پاریکر کو سادہ طرزِ زندگی پسند تھا۔اسی لیے وہ مشہور بھی تھے۔ اچانک کسی عام ہوٹل میں کھانا کھانے چلے جانا، عام لوگوں کی طرح اسکوٹر پر گھومنا ان کے لیے معمول تھا۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے،منوہر پاریکر ہمیشہ کی طرح صبح صبح اپنی اسکوٹر پر جا رہے تھے۔راستہ میں ٹریفک کی بھیڑ کم تھی۔ایک ٹریفک سگنل پر ان کے پیچھے ایک لڑکا انتہائی تیزی سے آڈی کار چلا تا ہوا آیا، اس کو یہ لگا کہ منوہر پاریکر سگنل پر نہیں رکیں گے۔مگر نظم و ضبط کے پابند پاریکر سگنل پر رک گئے۔ اچانک رکی اسکوٹر کی وجہ سے آڈی ڈرائیور گھبرا گیا۔ زور سے بریک لگاتے ہوئے بڑی مشکل سے گاڑی روکی، اور انتہائی غصے کے ساتھ منوہر پاریکر سے بولا:کہاں بیچ راستے میں رک گیا ہے، ایک طرف ہو جا، تجھے معلوم نہیں میں کون ہوں، میرا باپ DSP ہے۔مگر پُرسکون اور سادہ مزاج منوہر پاریکر نے اپنا ہیلمٹ اتارتے ہوئے اس لڑکے سے کہا تو پھر اپنے باپ سے جا کر کہنا کہ تجھے وزیراعلیٰ ملے تھے۔ اورسنو، گاڑی آہستہ چلایا کرو۔ ایسا مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے نرمی سے جواب دیا۔ حالانکہ وہ خود وزیراعلیٰ تھے، وہ اگر چاہتے تو جواب میں شدت کا طریقہ اختیار کر سکتے تھے۔ مگر انھوں نےنرم انداز میں اس لڑکے کو سمجھایا۔‘‘
ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتیں انسان کو اعلیٰ انسان بناتی ہیں۔ مسٹر پاریکر کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ آدمی اگر چاہے تو اس کے لیے ہر جگہ اچھا انسان بننے کا موقع موجود ہے۔شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر کبر کی نفسیات سے بچائے۔(ڈاکٹر فریدہ خانم)
