شرک، توحید
شرک اور توحید کو عام طور پر بتوں کو پوجنے یا نہ پوجنے تک محدود سمجھ لیا جاتا ہے۔ جو آدمی بظاہر بت کو پوجے ، وہ مشرک ہےاور جو آدمی بظاہر بت کو نہ پوجے ، وہ موحّد ہے۔مگر یہ شرک اور توحید کا ایک بے حد کم تر اندازہ ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ شرک کا تعلق انسان کی گہری نفسیات سے ہے۔ انسان خود اپنی نفسیات کی سطح پر مشرک یا موحد بنتا ہے، نہ کہ کسی خارجی مجسمے کی سطح پر۔
اصل یہ ہےکہ انسان کے اندر ایک انتہائی طاقتور طاقت ور جذبہ ہے۔ یہ محبت کا جذبہ موجود ہے، یعنی کسی کے لیے اسٹرانگ افکشن (strong affection)کا ہونا۔ اِس شدید جذبۂ محبت کو انسان اگر کسی غیر خدا کے ساتھ وابستہ (associate)کرے تو وہ شرک ہے، اور اگر وہ اِس جذبے کو اللہ کے ساتھ مخصوص کردےتو وہ توحید ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے۔ جو قرآ ن میں اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے :
وَمِنَ النَّاس مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَہُمْ كَحُبِّ اللہِ، وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِلہِ (2:165)۔ یعنی، کچھ لوگ ایسے ہیں۔ جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ وہ اُن سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہیے ۔ اور جو اہل ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔
اللہ سے حبِّ شدید (strong affection) اصلاً ایک قلبی حالت کا نام ہے۔ تاہم اس کے کچھ خارجی مظاہر ہیں۔ اس کا ایک مظہر یہ ہےکہ ایسا آدمی اللہ سے اپنے شدتِ تعلق کی بنا پر مجبور ہوتا ہےکہ وہ بار بار اللہ کا چرچا کرے۔ اس کی مجلس میں گہری کیفیت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتا رہے۔ اس کے دماغ میں ایسا فکری بھونچال جاری رہے، جو ایک انفجار (explosion)بن کر لفظوں میں ظاہر ہو جائے— یہ گہرا قلبی تعلق اگر کسی غیر اللہ سے ہو تو وہ شرک ہےاور اگر وہ اللہ سے ہو تو اِسی کا نام توحید ہے۔ آخرت میں مشرک کے لیے جہنم ہےاور موحد کے لیے جنت ۔
