تشبّہ بالکفار
تشبّہ بالکفار کی ممانعت شریعتِ اسلامیہ کے مسلّم اصولوں میں سے ہے۔ اس کا ثبوت رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ہے:مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4031)۔ یعنی، جس نے کسی قوم کی مشابہت کی، وہ انہی میں سے ہے۔ اس موضوع پر علمائے اسلام نے مستقل کتابیں لکھی ہیں، مثلاً علامہ ابن تیمیہ کی کتاب اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم۔ تشبُّہ بالکفّار کو سمجھنے کے لیے درج ذیل دو اصول بنیادی حیثیت رکھتے ہیں
وہ امور جو خیر، نفع اور انسانی بھلائی پر مبنی ہوں، ان میں مشابہت ممنوع نہیں ہے۔جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں سے انصار کے بچوں کو لکھنا سکھانے کا کام لیا تھا:فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَ وْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ (مسند احمد، حدیث نمبر 2216)۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علوم و فنون جن سے انسانی سماج کی بھلائی وابستہ ہو، انہیں محض اس وجہ سے ترک نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی دوسری قوم میں رائج ہیں۔ اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ آپ نے بیزنطینی حکومت کے ماتحت شام کے عیسائی کے ذریعہ تیار کردہ قمیص ، جبّہ شامیہ یا جبّہ رومیّہ کو استعمال فرمایا (صحیح البخاری، حدیث 363؛ مسند احمد، حدیث 18239)۔اس سے معلوم ہوا کہ غیراسلامی سماج میں رائج تمدّنی اشیاکو اختیار کرنا تشبّہ کے حکم میں داخل نہیں، جب تک ان میں کوئی مذہبی یا اخلاقی برائی شامل نہ ہو۔
اس کے برعکس، وہ امور جن سے سماج میں شر، فساد یا حدودِ شرع سے تجاوز پایا جائے، ان میں غیر مسلموں کی مشابہت حرام اور مردود ہے۔ ایک مسلمان ایسا کوئی کام دین کے نام پر انجام دے(مثلاً سوسائڈ بامبنگ،وغیرہ )، اور اس کے جواز کے لیے وہ غیرمسلموں کی مثالیں پیش کرے تو یہ غیر شرعی مشابہت کہلائے گی۔ کیوں کہ اللہ تعالی کی نظر میں وہی کام دین کا ہے، جو حدود اللہ کے اندر ہو (النساء، 4:14)۔ کوئی بھی دینی کام اگر شرعی حدود سے باہر ہو یا وہ انسانی جان و مال کے نقصان کا ذریعہ بنے،وہ نہ صرف تشبّہ بالکفار کے زمرے میں آتا ہے ، بلکہ حقوق العباد کی پامالی کے تحت ایسا ہرکام اللہ تعالیٰ کی نظر میں سخت مواخذہ کے قابل قرار پائے گا۔(مولانا فرہاد احمد)
