سائرن بج گیا
29 اگست 2010(18 رمضان1431 ہجری) کو افطار کا وقت 6 بج کر 50 منٹ پر تھا۔ ٹھیک وقت پر قریب کی مسجد سے سائرن کی آوازآئی ۔اچانک مجھے خیال آیا کہ یہ سائرن اس لیے بجا ہے کہ لوگ روزہ توڑ کر اب کھانا پینا شروع کر دیں۔ ایک وقت آنے والا ہے، جب کہ ایک اور سائرن یہ بتانے کے لیے بجے گا کہ لوگو ،بس اب کھانے پینے کا وقت ختم ہو گیا ۔ہر چیز چھوڑ کر میدان ِ حشر کی طرف دوڑو۔ اب تک کھانا پینا سب کومل رہا تھا، ،مگر اب کھانا پینا صرف اس انسان کو ملے گا جو خدائی امتحان میں کامیاب رہا ۔
مومن وہ ہے جس کے اندر آخرت رخی (akhirah-oriented)سوچ پیدا ہو جائے۔ جب کسی انسان کے اندر اس قسم کی سوچ پیدا ہو جائے تو اس کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کو آخرت کی جھلک دکھائی دینے لگتی ہے۔زندگی کاہر تجربہ اس کے لیے آخرت کی یاد دہانی بن جاتا ہے۔ جسمانی طور پر موت سے پہلے کی دنیا میں رہتے ہوئے نفسیاتی طور پر وہ موت کے بعد آنے والی دنیا کا باشندہ بن جاتا ہے۔
یہی کیفیت کسی انسان کے لیے اس کی روحانی ترقی کی ضامن ہے۔ کسی آدمی کی روحانی ترقی کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس کو مسلسل طور پر روحانی غذا ملتی رہے۔ یہ روحانی غذا آدمی کو کسی خلا میں نہیں ملتی،یہ روحانی غذا اسی مادی دنیا میں ملتی ہے۔
روزانہ کا تجربہ ہے کہ آدمی مادی غذا کھاتا ہے، اور وہ جسم کے اندر داخل ہو کر خون بن جاتی ہے۔ اسی طرح آدمی کو اپنے اندر صلاحیت پیدا کرنا چاہیے کہ مادی تجربات اس کے اندر روحانی سبق میں ڈھل جائیں۔ یہ صلاحیت روحانی ترقی کی لازمی شرط ہے۔ یہ صلاحیت کسی آدمی کے اندرشعوری عمل کے ذریعے پیدا ہوتی ہے، وہ کبھی پراسرار طور پر پیدا نہیں ہوتی۔
