خطرات، خطرات ، خطرات
میں مسلمانوں کے ایک جلسے میں شریک ہوا۔ یہ تعلیم یافتہ افراد کا جلسہ تھا۔ ان کی تقریروں کا خلاصہ تھا— ہم خطرات سے گھرے ہوئے ہیں، ہم اپنے آپ کو محاصرے کے اندر (under siege) پاتےہیں۔ ہم کو دشمن کی سازشوں کا سامنا ہے، وغیرہ۔
اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ اپنی پوری لمبی عمر میں مَیں نے مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقے سے یہی باتیں سنی ہیں۔ اس مدت میں شاید مجھے کوئی نہیں ملا، جو پازیٹیو تھنکنگ کا حامل ہو، جو مثبت باتیں کرے، جو انسانی خطرات کے بجائے اللہ رب العالمین کی رحمتوں کو جانتا ہو، جو لوگوں کے درمیان حقیقی معنوں میں اللہ کی محبت کو بکھیرے، جو لوگوں کے درمیان اللہ کی خشیت کا چرچا کرے ، جو لوگوں کو حقیقی معنوں میں جنت اور آخرت کا پیغام دے۔
مجھے اپنی زندگی میں ایسے بہت سے لوگ ملے، جو پیغمبر کا تذکرہ کرتے ہوئے رحمۃ للعالمین کا لفظ بولتےتھے، مگر مجھے یاد نہیں کہ مجھے اپنی زندگی میں ایسا کوئی شخص ملا ہے، جو حقیقی معنوں میںرحمۃ للعالمین کو ایک مثبت انقلابی تصور کے طور پر جانتا ہو، جس نے حالات کا ایسا تجزیہ کیا ہو کہ دنیا اس کو رحمت کی دنیا دکھائی دے، تاریخ اس کو رحمت کی تاریخ نظر آئے، جو لوگوں کو خوف کے بجائے امید کا پیغام دے، جو لوگوں کے اندر نفرت کے بجائے محبت کا چرچا کرے۔
مجھے اپنی لمبی عمر میں ایسے لوگ ملے، جو ردّ عمل (reaction) کی سوچ میں جینے والے تھے، شاید مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا، جو ردّ عمل کی نفسیات سے پاک ہو، جو خالص مثبت نفسیات میں جینے والا ہو۔ مجھے منفی باتیں کرنے والے ملے، لیکن مجھے مثبت باتیں کرنے والا کوئی نہیں ملا۔ مثبت طرزِ فکر فطرت کے نظام کے مطابق ہے۔ اس لیے مثبت طرزِ فکر سے زندگی کی تعمیر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، منفی طرزِ فکر سے زندگی کے تمام معاملات بگڑ جاتے ہیں۔مثبت طرزِ فکر زندگی ہے، اور منفی طرزِ فکر ابدی ہلاکت۔ مثبت طرزِ فکر ربانی طرزِ فکر ہے، اور منفی طرزِ فکرطاغوتی طرزِ فکر۔
