حاصلِ زندگی
24نومبر 2025 کو بالی وڈ کے مشہور اداکار دھرمیندر (پیدائش 8 دسمبر 1935) کا انتقال ہوگیا۔ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ نے ان کی وفات کی خبر دیتے ہوئے پہلا جملہ یہ لکھا ہے:انڈین سینیما کے ’ہی مین‘ کہے جانے والے اداکار دھرمیندر 89 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔
این ڈی ٹی وی نے اپنے یوٹیوب چینل پر ان کا آخری ویڈیو پیغام (25 نومبر 2025)نشر کیا ہے، جو انھوں نے اپنے مداحوں کو دیا تھا۔ چینل نے اس کو حسبِ ذیل عنوان دیا:
Dharmendra's Last Video Message
38 سیکنڈ کی ویڈیو میں ان کا پیغام یہ ہے’’:دوستو،
سب کچھ پا کر بھی حاصلِ زندگی کچھ بھی نہیں کمبخت جان کیوں جاتی ہے جاتے ہوئے
پتا نہیں کہاں لے جائیں گے، کون لے جائے گا،کیسے ساتھ لے جائیں گے، بہر حال، ہیومن نیچرہے اکٹھا کرتے رہو،اپنے آپ سے محبت کرو، اپنا خیال رکھو اور زندگی کو انجوائے کرو‘‘۔
No one knows where we will be taken, who will take us, or how we will be taken. In any case, it is human nature to keep accumulating. So, love yourself, take care, and enjoy life.
انسان اپنی ساری عمر خوشی کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد چاہتا ہے کہ وہ زندگی کو انجوائے کرے، اس کو ایسی خوشی حاصل ہوجائے، جس کے بعد کوئی غم نہ ہو۔ مگر عملی صورتِ حال یہ ہوتی ہے کہ انتہائی کوشش کے باوجود اس کا سفر ایک ناخوشی سے دوسری ناخوشی کی طرف جاری رہتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کا معاملہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کی اندرونی آواز اسےایک مستقل اندیشے میں مبتلا رکھتی ہے:مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ یہ وہ سوال ہے جو دل کی گہرائیوں میں بے چینی پیدا کرتا رہتا ہے۔
انسانی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا اس لیے نہیں بنائی گئی کہ انسان کو یہاں کامل خوشی (happiness) حاصل ہو۔ اسی لیے آخر میں اس کے پاس جو کچھ رہ جاتا ہے، اسے دھرمیندر کی ایک فلم میں یوں بیان کیا گیا ہے:کچھ پانے کی چاہ، کچھ اور بہتر کی تلاش—اسی چکر میں انسان اپنا سب کچھ کھو دیتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے۔ تلاش کبھی ختم نہیں ہوتی، وقت ختم ہو جاتا ہے۔ (بی بی سی اردو، 24 نومبر 2025)
انسانی تاریخ میں کوئی انسان فطری قانون سے مستثنیٰ نہیں۔ اس سلسلے میں امریکا کے مشہور مشنری بلی گراہم (1918-2018) نے چند حقیقی مثالوں کا ذکر کیا ہے، جو گویا پوری انسانی تاریخ کی ترجمانی ہے:
A french philosopher once said, "The whrole world is on a mad quest for security and happiness." A Texas millionaire confided, "I thought money could buy happiness—I have been miserably disillusioned." A famous film star broke down: "I have money, beauty, glamour, and popularity. I should be the happiest woman in the world, but I am miserable. Why?" One of Britain’s top social leaders said, "I have lost all desire to live, yet I have everything to live for. What is the matter?" A man went to see a psychiatrist. He said, "Doctor, I am lonely, despondent, and miserable. Can you help me?" The psychiatrist suggested that he go to a circus and see a famous clown who was said to make even the most despondent laugh with merriment. His patient said, "I am that clown." A college senior said, "I am twenty-three. I have lived through enough experiences to be old, and I am already fed up with life." A famous Grecian dancer of a generation ago once said, "I have never been alone but that my hands trembled, my eyes filled with tears, and my heart ached for peace and happiness I have never found." (The Secret of Happiness by Billy Graham, ch. The Search for Happiness)
اس دنیا میں کسی کو بھی حقیقی معنوں میں خوشی حاصل نہیں۔ یہاں تک کہ بظاہر خوشی میں جینا بھی انسان کو بورڈم کا شکار بنا دیتا ہے، جو اپنے آپ میں بے خوشی کا ظاہرہ ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اصل یہ ہے کہ منصوبۂ تخلیق کے مطابق، ہر انسان کے لیے موجودہ دنیا میں حاصلِ زندگی یہی ہے کہ وہ ایسا سرمایہ جمع کرنے کی منصوبہ بندی کرے جو نہ صرف اسے اس دنیا میں ایک اچھا انسان بنائے، بلکہ اس نامعلوم اگلی دنیا میں بھی اسے ایک اچھے انسان کی حیثیت عطا کرے۔ موت اس حقیقت کا اعلان ہے کہ آپ ایک ایسے مقام کی طرف جانے والے ہیں جسے آپ ابھی تک بالکل بھی نہیں جانتے۔ بڑھاپا، بیماری اور دیگر کمزوریاں اس اٹل فطری قانون کی جبری یاددہانی ہیں ۔ یعنی موت کے بعد ہمیں یقیناً ایک انتہائی نامعلوم مقام کی طرف لے جایا جائےگا، اس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔عقل مند وہ نہیں جس کا مقصد یہ ہو کہ وہ اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ حاصل کر لے۔ دور اندیش وہ ہے جو یہ سوچ کر زندگی گزارے کہ مرنے کے بعد اسے کن چیزوں کی ضرورت ہوگی، اور وہ اسی حساب سے اپنا سرمایہ اکٹھا کرے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
