کیوں یہ عمومی بے خبری

کیوں یہ عمومی بے خبری؟ اس کا جواب خود قرآن و حدیث میں پیشگی طور پر دیا گیا ہے۔ایک حدیث میں قرآن کے تعلق سے آیا ہے:وَخَبَرُ مَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ (مسند احمد، حدیث نمبر704) ۔ یعنی، قرآن میں مستقبل میں پیش آنے والے واقعے کی خبر ہے۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے:سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔ 

یہ آیت واضح طور پر امت کو مستقبل کے اعتبار سے لائن آف ایکشن دے رہی تھی، یعنی خدا کی دریافت بذریعہ آیاتِ کائنات (signs in nature)۔ مگر حیرت بات یہ ہے کہ کسی نے اس کو موضوع بحث بنا یا ہی نہیں۔ سارے لوگ فقہی مسائل میں لگے رہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے بعد کے زمانوں میں یہ ہوا کہ لوگ جوق دور جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ انھوں نے ساری توجہ مسائلِ احکام کو سمجھنے میں لگادی ۔پوری امت اسی میں مصروف ہو گئی اور فقہ عملاً سب سے نمایاں حیثیت اختیار کر گئی۔ قرآن کا مطالعہ یونیورسل نقطۂ نظر سے کرنے کے بجائےفقہی مسائل کے اعتبار سے کیا جانے لگا۔ صدیوں تک یہی طریقہ جاری رہا۔

بعد میں چل کر اس میں ایک نئی بات شامل ہوگئیتقدیسِ اکابر (اسلاف)کا نظریہ۔ یعنی اکابر کو دین کے ہم معنی سمجھ لینا۔ اکابر نے قرآن و سنت کے حوالے سے جو کہہ دیا، وہ حرفِ آخر ہے، اس سے الگ رائے قائم کرنا مطلوب عمل نہیں۔ اگرچہ بعد کے زمانے میں کچھ لوگوں نے اکابر کے نقطۂ نظر سے اوپر اُٹھ کر قرآن کا مطالعہ کرنا چاہا، اور بدلے ہوئے زمانے کے اعتبار سے قرآن کو سمجھنے کی کوشش کی تو عموماً یہ خیال کیا گیا کہ یہ اسلاف پر تنقید ہے، اور اسلاف پر تنقید کو دین پر تنقید یا اس میں تبدیلی کے ہم معنی سمجھ لیا گیا۔

حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمادیا تھا:نَضَّرَ اللهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا وَحَفِظَهَا وَبَلَّغَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ (سنن الترمذی،حدیث نمبر 2658)۔ یعنی، اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اسے یاد رکھے، محفوظ کرے اور دوسروں تک پہنچائے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی صاحبِ فہم ہو، اور وہ میری بات اُس تک پہنچائے جو اس سے زیادہ گہری سمجھ کا حامل ہو۔

زیادہ گہری سمجھ کا حامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دین کو زیادہ گہرائی کے ساتھ اور اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق بہتر طور پر سمجھے گا۔ یعنی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فہمِ دین کے معاملے میں جمود ایک نامحمود عمل ہے۔ مسلم تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قدیم زمانے میں انا قائم الزمان ، اور جدید دور میںمجدد کامل جیسے الفاظ تو بولے گئے، لیکن ان الفاظ کا مصداق حقیقی طور پر پیش نہ کیا جاسکا۔ اس کی وجہ شخصی تقدس کا وجود میں آنا تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے پچھلے عمل کاازسرِنو جائزہ (reassessment) کریں، اور جو کام رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں شروع ہوا، مگردرمیانی ادوار میں جا کر رک گیا تھا، اس کو دوبارہ شروع کریں۔ یعنی قرآن کی آیتوں کا دوبارہ یونیورسل یا اجتہادی نقطۂ نظر سےمطالعہ کریں۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا نظام اجتہاد کے بغیر نہیں چل سکتا، اور اجتہاد اختلاف رائے کے بغیر ممکن نہیں۔ جہاں اختلاف رائے نہ ہو، وہاں جمود ہوگا، اور ذہنی جمود در حقیقت ذہنی موت ہے، جس کے بعد حقیقی ترقی کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ تقدیسِ اکابر کا نظریہ انسان کواختلاف رائے سے روک دیتا ہے۔ حالانکہ یہی اختلافِ رائے اجتہاد کا دروازہ ہے، وہ انسان کے اندر یونیور سل اپروچ پیدا کرتا ہے۔

 اختلافِ رائے کا اظہار ہمیشہ تنقید (criticism)کی صورت میں ہوتا ہے۔ مگر تنقید خواہ وہ کسی شخص کے حوالے سے کی گئی ہو، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مطالعے کی ایک صورت ہوتی ہے۔ تنقید کا اصل مقصد کسی موضوع پر کھلے تبادلۂ خیال (open discussion) کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔ تنقید کا مقصد یہ ہے کہ مختلف ذہن (mind)دیانت دارانہ طورپر (with intellectual honesty)اپنے نتیجۂ تحقیق کو بتائیں اور پھر دوسرے لوگ دیانت داری کے ساتھ اُس پر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ اِس طرح کا آزادانہ تبادلۂ خیال اجتہادکا بنیادی تقاضا ہے۔

آج اب ضرورت ہے کہ قرآن کو اس کی ابدی حقیقت کے اعتبار سے پڑھنے کا طریقہ اختیار کیا جائے، تاکہ ہمیں ان تمام معاملات میں ربانی رہنمائی حاصل ہوسکے جس کی موجودہ دور میں سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion