خون کا رشتہ
سماجی زندگی میں انسان کے لیے باہمی تعلق کا ایک نہایت طاقت ور محرک وہ ہے جسے خون کا رشتہ (blood relationship) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا تعلق ہے جو انسانوں کے درمیان ایک گہرا روحانی بندھن قائم کردیتا ہے، جو کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ دوسرے تمام رشتے کسی نہ کسی شرط کے تحت قائم ہوتے ہیں، لیکن خون کا رشتہ واحد رشتہ ہے جو ہر شرط سے بالاتر ہوتا ہے۔ باقی تمام رشتے مفاد (interest) پر قائم ہوتے ہیں، جب کہ خون کا رشتہ ایسا تعلق ہے جو نسب کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، نہ کہ کسی مفاد پر۔
خون کا رشتہ خالق کی ایک ایسی نعمت ہے جو ناقابل فہم حد تک حیرت انگیز ہے۔ خون اپنے آپ میں ایک مادی چیز ہے،مگر خونی رشتے کے ساتھ جو جذباتی وابستگی، ہمدردی اور قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، وہ محض مادی توضیح سے بالاتر ہے۔ حیوانات کے اندر بھی خون پایا جاتا ہے، لیکن ان میں خونی رشتے کے ساتھ وابستہ یہ اخلاقی اور جذباتی شعور موجود نہیں ہوتا۔ اسی بنا پر وہ انسانی معنوں میں خاندانی اور سماجی نظام قائم نہیں کرپاتے۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اگرچہ حیوانات میں بھی خون اور جینیاتی ربط پایا جاتا ہے، لیکن ان کے درمیان انسانی سطح کا سماج اور اخلاقی نظام تشکیل نہیں پاتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان کے خالق نے انسان کو شعور، اخلاقی احساس اور معنوی اقدار عطا کی ہیں، جو خونی رشتے کو محض حیاتیاتی تعلق کے بجائے ایک بامعنی تعلق کی سطح پر پہنچا دیتی ہیں۔
خونی رشتہ اپنی پاکیزگی کے اعتبار سے ایک ملکوتی رشتہ ہے۔ تاہم خونی رشتے کے امکانات سے وہی شخص بھرپور فائدہ (avail) اٹھا سکتا ہے جو گہری معرفت کی سطح پر اس کی اہمیت کو دریافت کرے، جو شکایت کی نفسیات سے آزاد ہوکر خونی رشتے کی قدر کرنا جانتا ہو۔ خونی رشتے کی قدر کرنا درحقیقت رحمتِ خداوندی کی قدر کرنا ہے۔
