علمی اسلوب، اکیڈمک اسلوب

علم کی دنیا میں دو مختلف اصطلاحیں (terms) استعمال ہوتی ہیں— علمی اسلوب اور اکیڈمک اسلوب۔ علمی اسلوب اور اکیڈمک اسلوب دونوں ہم معنی الفاظ نہیں ہیں۔دونوں اصطلاحوں کا مفہوم قریب المعنی ہونے کے باوجود بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ علمی اسلوب اہل مدارس کی اصطلاح ہے، جو علمائے اسلام کے درمیان استعمال ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اکیڈمک اسلوب ایک غیر مذہبی اصطلاح ہے، جو سیکولراہل علم کے درمیان استعمال ہوتی ہے۔ ان دونوں اصطلاحوں کو ایک سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی اس معاملے میں کنفیوزن کا شکار ہوجائے گا۔ علمی حلقوں میں ایسا آدمی مائنس مارکنگ (minus marking) کا مستحق سمجھا جائے گا۔

اکیڈمک اسلوب کی ایک مثال یہ ہے کہ اٹلی کے فلکیاتی عالم گلیلیو گلیلی (1564-1642ء) سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ زمین مرکز میں ہے، اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ مسیحی علم الکلام کے مطابق، یہ ایک مسلمہ حقیقت بن چکا تھا۔ لیکن سیکولر لوگوں نے ا س کو نہیں تسلیم کیا،اور گلیلیو کی تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ چنانچہ ساری دنیا کے اہل علم نے اس تحقیق کو قبول کرلیا، آج اس موضوع پر کوئی اختلاف نہیں۔ چنانچہ اس معاملے میں ممکنہ طور پر فری انکوائری کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔

دوسرا واقعہ یہ ہے کہ پیغمبر ابراہیم نے چار ہزار سال پہلے یہ کہا تھا:فَإِنَّ اللهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ (2:258)۔ یعنی، اللہ سورج کو پورب سے نکالتا ہے تم اس کو پچھم سے نکال دو ۔ تب وہ منکر حیران رہ گیا۔ حضرت ابراہیم کا یہ بیان کسی انسانی تحقیق پر قائم نہ تھا، بلکہ وہ خدائی اعلان پر قائم تھا۔ یہ بیان ہمیشہ اسی طرح قائم رہے گا۔ اس میں کبھی کوئی تبدیلی آنے والی نہیں۔یہ علمی اسلوب کی ایک مثال ہے۔

اسلامی موضوعات سب کے سب علمی اسلوب پر قائم ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ کہیں کہ قرآن قطعی الدلالۃ ہے، تو آپ کے لیےخود قرآن سے اس کے حق میں حوالہ دینا کافی ہوگا۔ اس معاملے میں آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہوگی کہ آپ قرآن کے باہر سے اس کے لیے کوئی علاحدہ دلیل لائیں تب اس کو ثابت شدہ سمجھا جائے ۔ مذہبی عقیدے کا پورانظام اسی اصول پر قائم ہے۔ عقیدے کے معاملے میں اگر کوئی شخص خارجی دلیل دیتا ہے تو وہ اضافۂ علم کے لیے ہوگا، نہ کہ خود علم کے مزید تحقق کے لیے۔

اس حقیقت کو اہل مدارس کی اصطلاح میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ علمی اسلوب کے قواعد بدیہی حقیقت (axiom) کے اصول کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔

Axiom is a self-evident truth that requires no proof. A rule or a statement that is accepted as true without proof.

اکیڈمک اسلوب آزادانہ تحقیق (free inquiry) کے اصول پر قائم ہوتا ہے۔ اس میں ایسا نہیں ہوتا کہ پیشگی طور پر کسی چیز کو بطورِ ابدی حقیقت کے مان لیا جائے۔ حتی کہ کوئی حقیقت اگر ایک بار بظاہر ثابت ہوجائے، تب بھی وہ ری انکوائری (reinquiry) کا موضوع (subject) ہوتا ہے۔ علمی اسلوب میں قطعی الدلالہ کا اصول اپلائی ہوتا ہے، جب کہ اکیڈمک اسلوب میں فری انکوائری کا اصول۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion