سورۃ الانشراح
قرآن کی سورۃ الانشراح (94)کا ترجمہ یہ ہے’’کیا ہم نے تمھارا سینہ تمھارے لیے کھول نہیں دیا ۔ اور تمھارا بوجھ اتار دیا، جس نے تمھاری پیٹھ جھکادی تھی ۔ اور ہم نے تمھارا ذکر بلند کیا۔ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ پھر جب تم فارغ ہو جائو تو محنت کرو۔ اور اپنے رب کی طرف توجہ رکھو‘‘۔
قرآن کی اِس سورہ کو عام طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی فضیلت کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ ایک مفسر قرآن لکھتے ہیں:سورةُ الشَّرْحِ سورةٌ مَكِّيَّةٌ، تَتَحَدَّثُ عَنْ مَكانَةِ الرَّسولِ الجَليلَةِ، وَمَقامِهِ الرَّفيعِ عِندَ اللهِ تَعالى(تفسیر القرآن العظیم، عم لعبد الملک القاسم،صفحہ 125)۔ یعنی، سورۃ الانشراح ایک مکی سورہ ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقام اور مرتبے کو بیان کرتی ہے، جو آپ کا اللہ کے نزدیک ہے۔
مگر یہ بات درست نہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ قرآن کی اِس سورہ میں پیغمبر اسلام کے حوالے سے اللہ کی ایک عمومی رحمت کو بیان کیا گیا ہے۔ جب ایک انسان سچائی کا متلاشی (seeker)بنتا ہے، پھر وہ سچائی کو دریافت کرتا ہے، اس کو اللہ کی معرفت حاصل ہو تی ہے، ذکر و دعا کے ذریعے وہ اللہ سے تعلق قائم کرتا ہے۔ اُس وقت ایک سچے انسان کو اعلیٰ معرفت کی صورت میں جو رحمتیں حاصل ہوتی ہیں، اُن کو اِس سورت میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس رحمت کے پانچ پہلو ہیں :
1۔فکری و ضوح (clarity of thought)
2۔معاملات کو مثبت انداز میں دیکھنا (positive approach)
3۔ مسائل کے بجائے مواقع پر دھیان دینا (focussing on opportunity)
4۔ اپنے اوقاتِ کار کی تنظیم (time management)
5۔خدارخی ذہن (God-oriented man)
اِن پانچ صفات کے ساتھ جو شخصیت بنے ، اس شخصیت کا شرعی نام مومن اور مسلم ہے۔
