تسبیحِ فاطمہ
ایک مرتبہ امریکا کے سفر میں میں نے ڈاکٹر وقار عالم کی اہلیہ، مزنصرت فاطمہ کو ایک نصیحت کی ۔ میں نے کہا کہ آپ کو امریکا میں دوسروں کی طرح تنہائی (loneliness) کا احساس ہوتا ہوگا۔ میں نے کہا کہ آپ اگر تسبیح فاطمہ کی اسپرٹ کو اپنے اندر شامل کرلیں تو آپ کا گھر فرشتوں سے بھرا رہے گا۔ میں نے کہا کہ تسبیح فاطمہ کوئی پراسرار چیزنہیں۔ تسبیح فاطمہ کا مطلب ہے ،فرشتوں کو اپنا مددگار بنانا۔
تسبیح فاطمہ کیا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تاکہ وہ آپ سے گھر کے لیے ایک خادم مانگیں ۔ مگر آپ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کو خادم دینے کے بجائے یہ تسبیح سکھائی۔ آپ نے فرمایا کہ تم 33 بار کہو سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ پھر 33بار کہو الحمدللہ، الحمد للہ۔ پھر 34بار کہو اللہ اکبر، اللہ اکبر۔پھر آپ نے فرمایا کہ یہ تمھارے لیے اس چیز سے بہتر ہے، جو تم نے مانگا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5361)۔
یہ عام طور پر تسبیح فاطمہ کے نام سے مشہور ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو اس کی تلقین فرمائی تھی۔ لیکن غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ آپ نے حضرت فاطمہ کے واسطہ سے امت کی تمام خواتین کو ذکر کا یہ قیمتی تحفہ عطا فرمایا ہے ۔ بظاہر وہ تسبیحِ فاطمہ ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ تسبیح خواتین ہے۔
اصل یہ ہے کہ فطری طور پر عورتوں کا ایک خاص مزاج ہے ۔ اس مزاج کی وجہ سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عورتیں جب اکٹھا ہوتی ہیں تو وہ فوراً ایک دوسرے کی باتوں کا غیر ضروری چرچا کرنے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ کسی نہ کسی کے بارے میں لایعنی با تیں ان کا موضوعِ گفتگو بن جاتی ہیں۔ یہ عورتوں کی ایک عام کمزوری ہے جس سے بہت کم عورتیں اپنے کو محفوظ کر پاتی ہیں۔
مذکورہ تسبیح عورتوں کو اس گناہ سے بچانے کی ایک تدبیر ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح خواتین کو ایک اچھی مشغولیت دے دی ہے جس میں اپنے آپ کو مصروف کر کے وہ ثواب بھی حاصل کریں اور آخرت کے نقصان سے بھی بچ جائیں ۔
خاص طور پر زیادہ عمر کی عورتوں کے لیے وہ اور بھی زیادہ اہم ہے۔ ایک عورت کی عمر جب بڑھتی ہے تو اس کے بعد اس کی عملی مصروفیت اسی نسبت سے کم ہو جاتی ہے ۔ اس کے لیے اپنے خالی وقت کا بہترین مصرف یہ ہے کہ وہ دوسروں کے بے فائدہ تذکرہ میں اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ بلکہ تسبیح کی صورت میں خدا کا ذکر کرنے لگے ۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہو گا کہ دنیا میں اس کو قلبی سکون حاصل ہو گا اور آخرت میں جنت کا ابدی آرام ۔
