امانی اور فکری زوال

قرآن میں اہلِ کتاب قوموں کی زوال یافتہ روش کا تفصیل سے ذکر آیاہے۔ان میں سے ایک رویہ وہ ہے جس کو انسانی زبان میں خوش خیالی کہا جاتاہے۔مثلاً یہ کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں(المائدۃ،5:18)۔یہودی اور نصرانی پیدا ہونا ہی ہدایت یاب ہونا ہے(البقرۃ، 2:135)۔ ہمارا کوئی آدمی جہنم میں نہ جائے گا ۔ اور اگر گیا بھی تو اس کا جانا صرف چند روز کے لیے ہو گا (البقرۃ، 2:80)۔ قرآن نے ان کی ان خوش خیالیوں کو ’’امانی ‘‘(البقرۃ، 2:111) کہا ہے ۔ ارشاد ہوا کہ اس قسم کے امانی خواہ یہود قائم کریں یا مسلمان قائم کریں ، خدا کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔ خدا کا ابدی قانون تو یہ ہے کہ جو شخص جیسا کرے ، اس کے مطابق اس کو بدلہ دیا جائے (النساء،4:123)۔

امانی کے معنی ہیں بے بنیاد توقعات ۔ عبد اللہ بن عباس، مجاہد اور فراء نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ موضوع روایات اور بے سند قصے ہیں جو یہودی علما ومشائخ نے وضع کیے اور پھر وہ پوری قوم میں رائج ہو گئے ۔ قومِ یہود کے انتہائی مبالغہ آمیز فضائل ، یہودیت سے تعلق رکھنے والی معمولی معمولی چیزوں کے مقدس اور متبرک ہونے کی طلسماتی داستانیں کثرت سے ان کے درمیان پھیلی ہوئی تھیں۔ پوری کی پوری قوم حقیقی عمل سے غافل تھی اور انہیں موضوع روایات اور بناوٹی قصے کہانیوں پر جی رہی تھی۔

ٹھیک یہی حال آج مسلمانوں کا ہو رہا ہے ۔ کتاب اللہ کے بجائے عملاً ’’ کتاب الا مانی ‘‘ ان کے دین کا ماخذ بنی ہوئی ہے ۔ فضائل اعمال کی بے اصل روایات اور بزرگوں کے کشف وکرامت کی فرضی داستانیں بے شمار تعداد میں قوم کے اندر پھیلا دی گئی ہیں اور مسلم عوام کی کثیر تعداد انہیں خوش خیالیوں کے سہارے جی رہی ہے ۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی اصلاحی تحریکیں اٹھیں، مگر وہ سب کی سب اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ اِس ناکامی کا سبب یہ ہےکہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اِس مفروضے کے ساتھ اپنا کام شروع کیا کہ یہاں ایک ’’خیرِامت‘‘ موجود ہے اور اس کو زندہ کرنے کے لیے صرف یہ کرنا ہے کہ اس کے اندر جوش وولولہ پیدا کردیا جائے۔ اقبال کا یہ شعر اِسی ذہن کی نمائندگی کرتاہے:

نوارا تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی

حُدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی

یعنی، اگر جذبہ اور شوق کم پڑ جائے تو اپنی آواز میں شدت پیدا کر، اور جب سفر بوجھ لگنے لگے تو حوصلہ بڑھانے والے ترانے کو بلند آواز میں گا۔

مگر امت کی احیا کا یہ صحیح طریقہ نہیں۔امت کی احیا کا مطلب یہ ہے کہ امت کے افراد کو صحیح اور مثبت راستے پر ڈالا جائے ان کو ’’امانی‘‘ سے باہر نکالا جائے۔ قانون فطرت کے مطابق اس دنیا میں کوئی بھی تعمیری مشن غوغائی سیاست سے شروع نہیں ہوتا ۔ تعمیری مشن ہمیشہ افراد سازی سے شروع ہوتا ہے۔ احیائے امت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اِس بات کو تسلیم کیا جائے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خیر امت کی سطح پر نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک زوال یافتہ امت (degenerated community) ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے یہود ونصاری کون تھے۔ وہ دراصل دورِ قدیم کی زوال یافتہ امت تھے۔ قرآن میں ان کی جو حالت بیان کی گئی ہے، وہ امتِ مسلمہ کے موجودہ دورِ زوال کے لیے ایک آئینہ ہے۔یعنی امت مسلمہ کو اپنی اصلاح کے لیے وہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے، جو قرآن میں اہل کتاب کی اصلاح کے لیے بیان کیے گئے ہیں۔

اِس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے مسلم رہنماؤں کے لیے کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ امت کے افراد کو خیر امت فرض کرکے کام کا آغاز کریں، بلکہ وہ اصلاح سے پہلے اِس حقیقت کو تسلیم کریں کہ یہ امت زوال کے اُس مرحلے میں پہنچ چکی ہے جہاں یہود ونصاری پہنچے تھے۔ اِس بنا پر اُن کی اصلاح کے لیے عملاً وہی طریقہ کار آمد ہو سکتا ہے جو قرآن میں یہود و نصاریٰ کی اصلاح کے لیے بیان کیے گئے ہیں۔ اور ان تمام باتوں کا خلاصہ سورۃ الحدید(57:16-17) میں اس طرح بتایا گیا ہےکہ پہلے افرادِ امت کے شعور کو بیدار کرنا اور اس کے بعد اس کی عملی اصلاح کرنا ۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion