ایک انٹرویو

)زیرِ نظر انٹرویو کی پہلی قسط الرسالہ جولائی ۔ اگست، اور دوسری قسط نومبر۔ دسمبر 2025 میں شائع ہو چکی ہے (

س:مدارس کے بہت سے طلبہ و اساتذہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے بارے میں غلط  تصورات رکھتے ہیں۔ اس معاملے سے کس طرح نمٹنا چاہیے؟

ج: اس طرح کی ذہنیت دونوں طرف پائی جاتی ہے۔ میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ باہمی تعامل (interaction)کی کمی ہے۔مثبت تعامل منفی ذہنیت کو ختم کر دیتی ہے۔اگر کسی ہندو کاکسی مسلمان سے تعلق یا دوستی نہیں ہے،اس نے صرف مسلمانوں کے بارے میں میڈیا کے حوالے سے پڑھا اور جانا ہے، تو مسلمانوں کے بارے میں اس کا تصور نہایت غلط ہوگا۔دوسری صورت میں اگر ایک ہندو مخلوط ہندو مسلم آبادی یا مسلم محلے میں رہتا ہے تو اس کے زیادہ امکانات ہیں کہ مسلمانوں سے متعلق اس کا تصور زیادہ مثبت ہوگا۔ مثبت تعامل غلط فہمیوں کے ازالے کا سب سے بہتر ذریعہ ہے اور اس کے لیے کسی مصنوعی پروگرام یا اسکیم کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تعمیری تعامل کے مثبت نتیجہ کی ایک مثال دیتا ہوں۔ ایک گاؤں کے مقامی باشندے وہاں واقع مدرسہ اور اس کے مولوی حضرات کے بارے میں جو وہاں پڑھاتے تھے، نہایت غلط اور مفروضات پر مبنی تصورات رکھتے تھے۔ ایک دن بعض ہندوؤں کے گھر میں آگ لگ گئی۔ اس کو بجھانے کے لیے مدرسہ کے لڑکے دوڑ پڑے۔ اس کے بعد مدرسہ کے تعلق سے وہاں کے ہندوؤں کا رویہ بدل گیا۔ مدرسہ اور مدرسہ والوں سے وہ جس قدر نفرت رکھتے تھے اب وہ ان سے اتنی ہی محبت کرنے لگے۔ یہ ہے باہمی تعلق اور میل جول کا معجزہ۔

س:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مدارس میں دوسرے مذاہب سے متعلق بھی پڑھا یا جانا چاہیے؟

ج:جی ہاں! بالکل، اس سے ان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ دوسرے مذاہب کےلوگوں کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات قائم کر سکیں۔ اس سے ان کی دعوت و اصلاح کی مہم کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔ دوسرے مذاہب کے بارے میں پڑھانے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ان مذاہب کے بارے میں ان کے اندر معروضی شعور پیدا ہو جائے۔ دوسرے مذاہب کی مذمت کا رویہ ترک کیا جانا چاہیے۔آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے پڑوسی کو سمجھنے کی کوشش کریں، خواہ آپ سے متعلق ہوں یا نہ ہوں۔ جدال غیر احسن اسلامی اخلاق کے مطابق نہیں ہے۔ اس لیے مثال کے طور پر جب میں کسی مندر، گردوارہ یا چرچ وغیرہ میں جاتا ہوں تو میں اپنے ذہن کو تمام تعصبات سے خالی کر لیتا ہوں۔ اس طرح ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ میرا ارادہ دوسروں کو سمجھنے ،دوسرے کے متعلق معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے، ان کی مذمت کرنا نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کو دوسروں تک پہنچانا ہمدردی کی بات ہے، دشمنی کی نہیں۔ یہ فخر کرنے کی بات نہیں ہے کہ ایک مذہب کا ماننے والا دوسرے سے افضل ہے۔ قرآن ہم سےچاہتا ہے کہ ہم دوسروں کے ہمدرد بنیں۔

س:دوسروں کے ساتھ تعامل میں علما کے لیے ایک بڑی رکاوٹ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مسلم مخالف فضا کی وجہ سے انہیں یہ لگتا ہو کہ انہیں مسترد کر دیا جائے گا۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟

ج:اس تعلق سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ تعارفِ اسلام کی راہ میں ہر طرح کی مشقت کو برداشت کرنے اور اپنی ذات کو تج دینے کی ضرورت ہے۔ میں خود اپنی مثال دیتا ہوں ۔ جب میں ایک عرصہ قبل دہلی منتقل ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہندوؤں کا ایک گروپ ہفتے میں ایک مرتبہ ایک جگہ ملا کرتا ہے۔ مجھے شدید خواہش ہوئی میں ان کی میٹنگ میں شریک ہوں۔ چنانچہ میں شریک ہونے لگا۔ ایک دن ایک شخص نے ایک مسئلے کے بارے میں مجھ سے پوچھا جو اس کے گمان کے مطابق قرآن سے تعلق رکھتا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ بات قرآن میں موجود نہیں ہے، اس نے اس پر اصرار کیا۔ اس نے کہا کہ وہ اردو جانتا ہے اور اس نے قرآن کا ترجمہ پڑھا ہے۔ اس نے کہا کہ میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ میرے لیے یہ بات توہین کے مترادف تھی، نیز قرآن کے تعلق سے اس کے تحقیری رویے سے مجھے شدید دکھ پہنچا۔ لیکن میں نے یہ سب برداشت کیا۔ میں نے اس کے ساتھ کوئی سختی کا رویہ نہیں اپنایا۔ چنانچہ اس کے نتیجہ میں وہ آگے چل کر میرا دوست بن گیا۔ اسلام سے متعلق گفتگو اور دعوت کے عمل میں اس قسم کے صبر و اعراض کی ضرورت ہے۔

س:مدارس پر لگائے جانے والے دہشت گردی کے الزام سے متعلق آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

ج:یہ بالکل بے بنیاد الزام ہے۔ کوئی بھی مدرسہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہے۔ پاکستان کے بعض مدارس کے تعلق سے یہ بات ضرور کہی جا سکتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ بھی کوئی مدرسے کا ظاہرہ (Phenomenon) نہیں،بلکہ پاکستانی ظاہرہ ہے۔ پاکستان کے پارلیمانی سکریٹری برائے دفاع نے ابھی چند دنوں قبل پاکستانی پارلیمنٹ میں ہندستان کے خلاف جہاد کی بات کہی ہے۔ یہ بالکل پاگل پن کی بات ہے۔ یہ شخص مدرسہ کا فاضل نہیں ہے، یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ ہے۔ اس لیےمیں نے کہا کہ پاکستان کے بعض مدارس کا دہشت گردی میں ملوث ہونا ایک پاکستانی معاملہ ہے۔ یہ پاکستان میں سیاسی مفادات کی خاطر اسلام کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہ نہایت غلط بات ہے کہ میڈیا کا ایک حلقہ ہندستانی اور پاکستانی مدرسوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے۔ اوریہ کہ ہندستانی مدرسوں کو بھی پاکستانی مدرسوں کی طرح دہشت گردی میں ملوث سمجھتا ہے۔

س:کیا آپ پاکستان میں اسلام کی اپنی من مانی تشریح کے مذکورہ بالا نکتے پر مزید روشنی ڈالنا چاہیں گے؟

ج:اصل میں پاکستان کی تحریک ہندستانی مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کی تشکیل کے مطالبے اور جدوجہد پر مبنی تھی۔ اس کے لیے اسلام کو ایک آلے اور ذریعہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔آپ اس کا تو مطالبہ کر سکتے ہیں کہ آپ کو الگ سے اپنا ملک چاہیے، لیکن اس کے لیے آپ کو اسلام کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ طریقہ صحیح نہیں ہے۔ پاکستان کی تحریک کے علمبردار کہتے تھے کہ اسلام اور پاکستان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے،اس لیے انہیں اسلام کو مضبوط کرنے اور فروغ دینے کے لیے ایک علاحدہ ملک کی ضرورت ہے۔ یہ بالکل غلط بات تھی۔ اسلام یا کوئی اور مذہب ایک خطۂ ارضی کو حاصل کر کے مستحکم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ وہ صرف اس طرح مضبوط و مستحکم کیا جا سکتا ہے کہ افراد کے دلوں اور دماغوں میں اس کی جڑیں مضبوط کی جائیں۔ اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل کی جانب اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ تقویٰ اور نیکی یہاں رہتی ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2564)۔

استحصال تمام برائیوں کی جڑ ہے اور چونکہ پاکستان کے لیڈروں نے پاکستان کے آغاز سے ہی اسلام کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا ، اس لیے یہ بات بالکل فطری تھی کہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہونے کے باوجود کشمکش اور ماردھاڑ کا گہوارہ بن جائے۔

س:ایسا کیوں ہے کہ مدارس میں زیادہ تر انتہائی غریب خاندانوں کے بچے ہی تعلیم کے لیے آتے ہیں؟

ج:اس کی وجہ تعلیمی نظام میں پائی جانے والی ثنویت ہے۔ جس کا میں نے اوپر حوالہ دیا۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ اکثر والدین اپنے بچوں کو ماڈرن اسکولوں میں بھیجنا چاہتے ہیں، کیوں کہ مدارس کے فضلا کی تنخواہوں کا معیار نہایت کم ہے۔ مدارس کے اساتذہ کی تنخواہوں کا معیار زیادہ بہتر سے بہتر بنایا جانا چاہیے۔ اگر ایسا ہو تو یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ذہین اور خوشحال خاندانوں کے طلبہ بھی مدارس کا رخ کریں گے۔ ماضی میں مدرسوں سے نہایت ذہین وفہیم اسکالرس اور قائدین نکلے جنہوں نے ہندستان کی سیاسی زندگی میں نہایت اہم رول ادا کیا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہو رہا ہے اور بعض دوسرے اعتبارات سے یہ ان مدارس کے تبدیل شدہ طبقاتی کردار کا بھی نتیجہ ہے۔

س:آپ میڈیا کے بڑے حلقے میں مدارس کی شبیہ کے بگاڑے جانے کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟

ج:میڈیا زیادہ سے زیادہ آمدنی پیدا کرنے میں یقین رکھتا ہے۔ وہ مارکیٹ بنانے کے لیے ناظرین کے سامنے ہاٹ نیوز پیش کرنے کی فکر میں یقین رکھتا ہے۔ میڈیا کی سافٹ نیوز میں دلچسپی نہیں ہوتی اس لیے کہ اس سے آمدنی نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ سنسنی خیز اور سلیکٹیو رپورٹنگ کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ ایک دن میں ایک ریڈیو اسٹیشن کی ہندی سروس سن رہا تھا۔ ماریشش کے ایک سامع نے ٹیلی فون پر پوچھا کہ ’’ماریشش‘‘ کو کوریج کیوں نہیں دیا جاتا، جب کہ یہاں ہندی بولنے سمجھنے والے لوگ کافی تعداد میں ہیں۔ پروگرام پیش کرنے والے نے جواب دیا کہ میڈیا صرف گرم خبروں کا شائق ہے، جبکہ ماریشش سے گرم خبریں نہیں ملتیں۔ اس نے پھر مزید کہا کہ کچھ گرم خبریں پیدا کیجیے، پھر ہم آپ کے ملک کے بارے میں خبریں نشر کریں گے۔ اگر آپ میڈیا کی روش میں تبدیلی چاہتے ہیں تو آپ کو لوگوں کی ذہنیت کو بدلنا ہوگا۔

س:مرکزی مدرسہ بورڈ کی حکومتی تجویز پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

ج:نظریاتی سطح پر تو یہ صحیح لگتا ہے۔ خاص طور پر اس سیاق میں کہ اس سے مدارس کے نظام کو منظم کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم اصل مشکل حکومت اور مدارس کے درمیان صحت مند تعلقات کی ہے۔ اس بنا پر اس طرح کے بورڈ کا فائدہ بہت زیادہ نہیں ہوگا۔ بہت سے علما حکومت کے ارادے کو مشکوک سمجھتے ہیں۔ بہرحال اگر یہ بورڈ وجود میں آ جاتا ہے تو اس کی پالیسیاں اور سرگرمیاں علما کے مشوروں سے طے کی جانی چاہئیں۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion