حدیث اور قرآن
قرآن میں وہ تمام حقیقتیں بیان کی گئی ہیں، جو انسان کی سعادت کے لیے ضروری ہیں۔ مگر یہ بیان، زیادہ تر، عمومی انداز میں ہے، وہ تعین اور تحدید (specification)کی زبان میں نہیں۔ اِس اعتبار سے ، حدیث گویا کہ قرآن کا تکملہ (complement)ہے۔ حدیث میں قرآن کی عمومی تعلیمات کو محدّد زبان میں بیا ن کیاگیا ہے:
Hadith specifies the general teaching of Quran.
مثال کے طور پر قرآن کی سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہوا ہے:يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللہَ ذِكْرًا كَثِيْرًا (33:41)۔ یعنی، اے ایمان والو، اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو ۔ یہ آیت صرف ذکرکثیر کی تعلیم دیتی ہے،مگر ذکر کثیر کی عملی صورت کیا ہے، وہ قرآن کی اِس آیت سے معلوم نہیں ہوتی۔ قرآن ایک کتاب ہے، اِ س لیے اُس میں کسی تعلیم کو صرف اصولی طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ کسی تعلیم کی عملی صورت کو ایک کتاب میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
اِ س لیے قرآن میں بتایا گیا ہےکہ رسول تمہارے لیے اسوہ ہیں (33:21)۔ اسوہ کا مطلب ہے عملی نمونہ (practical model)۔ چنانچہ قرآن کی مذکورہ تعلیم (ذکرِ کثیر ) کا عملی ماڈل حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ اِس سلسلے میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ اُس روایت کے الفاظ یہ ہیں:كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر117)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ کو ہرحین (occasion) پر یاد کرتے تھے۔ رسول اللہ کے اِس اسوہ سے قرآن کی مذکورہ آیت کا مفہوم واضح طور پر معلوم ہوجا تا ہے۔ وہ یہ کہ ذکر کثیر کا مطلب کیا ہے۔ یعنی واقعات اور تجربات کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر اللہ کو یاد کرنا۔ واقعات اور تجربات آدمی کی زندگی میں ہر لمحہ پیش آتے رہتے ہیں۔ اِس بنا پر انسان کے لیے یہ موقع ہےکہ وہ ہر لمحہ پیش آنے والے واقعات اور تجربات کے حوالے سے اللہ کو یاد کرتا رہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں ذکر کثیر کہا گیا ہے۔
