ڈائری 1986

18جولائی 1986

مکہ میں رسول اللہ ﷺ کا سب سے بڑا دشمن ابو لہب تھا۔اس کی بیوی بھی دشمنی میں پوری طرح اس کے ساتھ تھی۔ یہ عورت ابو سفیان کی بہن تھی۔ اس کا نام تھاارویٰ اور کنیت اُمّ جمیل ۔

قرآن کی سورہ لہب میں اس عورت پر سخت تبصرہ ہے۔ جب یہ سورہ اتری اور مکہ میں لوگوں نے اس کو پڑھنا شروع کیا تو ام جمیل نے یہ سمجھا کہ ’’محمد نے اس کی ہجو کی ہے‘‘۔وہ غصے میں بھری ہوئی اپنے گھر سے نکلی کہ رسول اللہ ﷺ جہاں ہوں، وہاں پہنچے اور ان کے اوپر پتھر مارے۔

اسی تلاش میں وہ حرم میں پہنچی۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ حضرت ابو بکر کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ حضرت ابو بکر نے اس کو دیکھ کر کہا کہ اے خدا کے رسول! یہ اُمّ جمیل آ رہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کوئی بدتمیزی کرے گی۔ آپ نے فرمایا کہ آنے دو۔ وہ مجھ کو دیکھ نہیں پائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔وہ آئی مگر وہ حرم میں آپ کو دیکھ نہ سکی۔

اس نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تمہارے صاحب نے میری ہجو (satire) کی ہے۔ حضرت ابو بکر نے کہا کہ اس گھر کے رب کی قسم، انہوں نے تمہاری کوئی ہجو نہیں کی ہے۔ یہ سن کر وہ واپس چلی گئی۔روایت کے الفاظ یہ ہیں:فَقَالَتْ:يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنِّي ‌أُخْبِرْتُ ‌أَنَّ ‌صَاحِبَكَ ‌هَجَانِي. فَقَالَ:لَا وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا هَجَاكِ (مستدرک الحاکم،حدیث نمبر 3376)۔

یہ ایک قسم کا توریہ (evasive reply) تھا۔ امّ جمیل کو جس بات کی شکایت تھی ، وہ قرآن میں اتر رہی تھی، نہ کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے طور پر فرمائی تھی۔اس سے فائدہ اٹھا کر حضرت ابوبکر نے کہا کہ انہوں نے تو تمہاری ہجو نہیں کی۔ نازک مواقع پر اس طرح کا کلام عین حکمت اسلامی کا تقاضا ہے۔

19جولائی 1986

آج جولائی 1986 کی 19 تاریخ ہے۔اور صبح 4 بجے کا وقت۔میں ابھی تذکیر القرآن کا آخری صفحہ (تفسیر سورۃ الناس) لکھ کر فارغ ہوا ہوں۔ تذکیر القرآن لکھنے کا کام 1979 کے وسط میں شروع ہوا تھا اور اس کی پہلی قسط ماہنامہ الرسالہ اگست 1979 میں شائع ہوئی تھی۔آج 19جولائی 1986 کو اس کی تحریر کا کام آخری طور پر مکمل ہوا۔اس طرح اس کے لکھنے میں پورے سات سال لگ گئے۔آج صبح 3 بجے اٹھ کر میں تذکیر القرآن (سورۃ الناس) لکھنے بیٹھ گیا۔ اس کی آخری سطریں عین اس وقت پوری ہوئیں جب کہ نظام الدین کی مسجد سے فجر کی اذان کی آواز آ رہی تھی۔

تذکیر القرآن کی تکمیل مجھے ایک خدائی معاملہ نظر آتی ہے۔ یہ میرے لیے اتنا زیادہ مشکل کام تھا کہ اس کا ہر صفحہ لکھنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب میں اس کا اگلا صفحہ نہ لکھ سکوں گا۔

یہی صورت اس کی کتابت کے سلسلہ میں پیش آئی۔ دوسری جلد کی کتابت مجاہد قاسمی صاحب کر رہے تھے۔ وہ چونکہ روزنامہ قومی آواز میں ملازم ہیں، وہ تذکیر القرآن کی کتابت کا کام صرف جزئی  طور پر کر پاتے تھے۔ اس لیے اس کی کتابت کا کام بہت سست رفتاری کے ساتھ چل رہا تھا۔ مگر چھ ماہ پہلے اخبار قومی آواز میں ہڑتال ہو گئی اور وہ ابھی تک جاری ہے۔ اس بنا پر مجاہد قاسمی صاحب کے اوقات خالی ہو گئے اور وہ اپنا پورا وقت دے کر تذکیر القرآن کی کتابت کرنے لگے۔اس مدت میں انہوں نے مسلسل کتابت کر کے تذکیر القرآن کی کتابت مکمل کر دی۔اب جب کہ تذکیر القرآن کا تحریری کام پورا ہوگیا ہے اس کی کتابت کا کام بھی آخری مرحلے میں ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہی اس کی دوسری جلد چھپ جائے گی۔

اس سلسلہ میں ایک اور بات اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔

1فروری 1963 کو جب کہ میں اعظم گڑھ میں تھا، میں نے ایک خواب دیکھا۔ اٹھا تو پورا خواب یاد نہیں رہ گیا تھا۔ صرف خواب کا ایک جزء’’ 19جولائی‘‘ ذہن میں باقی تھا۔ بیداری کے بعد مجھے یاد نہ رہا کہ یہ کس بات کی تاریخ ہے۔ صرف اتنا یاد تھا کہ میں نے خواب میں 19 جولائی کی تاریخ دیکھی ہے۔

1963کے اس خواب کے بعد میں ہر سال 19 جولائی کا انتظار کرتا رہا ہوں۔ مگر ہر سال یہی ہوا کہ جب 19 جولائی آئی تو اس روز کوئی خاص نمایاں واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس طرح 23 سال بیت گئے۔1986 کی 19 جولائی وہ پہلی تاریخ ہے جب کہ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو شاید میری زندگی کا سب سے زیادہ قابل ذکر واقعہ ہے۔ اور وہ یہ کہ عین اسی تاریخ کو میں نے تذکیر القرآن کا آخری صفحہ لکھا۔

19“جولائی کو تذکیر القرآن کا مکمل ہونا بڑا عجیب واقعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام تمام تر خدا کی مدد سے ہوا اور عین خدا کے منصوبے کے تحت تکمیل کو پہنچا۔

تذکیر القرآن ایسے حالات میں مکمل ہوئی، جب کہ حالات بے حد خراب ہو چکے تھے۔ آج جب میں نے تذکیر القرآن کو مکمل کیا تو میرے دل نے کہا:جو کام مجھے کرنا تھا وہ کام آج پورا ہو گیا۔یہ میرے لیے اس بات کی حسّی علامت ہے کہ خدا کے دین پر کوئی پردہ نہ ڈال سکے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔

21جولائی 1986

بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ سوتے سوتے کوئی بات مجھ پر القاء ہوتی ہے۔ایسا ہی ایک واقعہ آج پیش آیا۔ آج میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ ظہر کی نماز کے بعد لیٹا تو نیند آ گئی۔ 4 بجے اچانک نیند کھلی تو معلوم ہوا کہ خواب کی حالت میں، میں کسی سے بول رہا تھا کہ اسی حالت میں نیند کھل گئی۔

خواب کی یہ گفتگو کس سے ہو رہی تھی، اس کا نام یاد نہیں۔ البتہ یہ یاد ہے کہ میں نے تیز لہجے میں اس سے کہا کہ یہ کہنا صحیح نہیں کہ’’:اسلام سائنس کے مطابق ہے‘‘۔صحیح یہ ہے کہ یوں کہا جائے’’:اسلام حقیقت کے مطابق ہے‘‘۔جو بات بھی حقیقت ثابت ہو وہ یقیناً اسلام کے مطابق ہوگی۔ خواہ وہ سائنس کے ذریعے ثابت ہو یا کسی اور علم کے ذریعے۔ہر ثابت شدہ چیز اسلام کے مطابق ہے۔ کیوں کہ اسلام خود حقیقت واقعہ ہی کا دوسرا نام ہے۔

تمام حقیقتیں خدا کی پیدا کردہ ہیں۔ اور اسلام بھی خدا کا نازل کیا ہوا ہے۔گویا دونوں کا مصنف ایک ہے۔ ایسی حالت میں اسلام اور حقیقتِ واقعہ میں غیر مطابقت کا کوئی سوال نہیں۔ اگر کسی معاملہ میں دونوں کے درمیان غیر مطابقت نظر آئے تو وہ انسان کی اپنی کم علمی کی بنا پر ہوگی، نہ کہ اس لیے کہ اسلام میں اور اس میں کوئی ٹکراؤ ہے۔

30جولائی 1986

ہندوستان ٹائمس (30جولائی 1986) صفحہ 16 پر چوکھٹے(باکس) میں ایک خبر ہے، جس کا مختصر عنوان یہ ہے:

Hero or zero?

خبر میں بتایا گیا ہے کہ 29 جولائی کو ہندوستان کی لوک سبھا میں سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ ممبران نے انڈسٹریز کے منسٹر آف اسٹیٹ مسڑ کے کے تیواری (Kamla Kant Tiwari, b. 1942) سے کچھ سوالات کیے۔ یہ سوالات ایک  foreign digital control system کے بارے میں تھے۔ منسٹر صاحب گھبرائے ہوئے تھے اور جواب نہیں دے پا رہے تھے۔اسی پر لوک سبھا کے اسپیکر مسٹر بلرام جھاکڑ (پیدائش 1923) نے مسکراتے ہوئے ان کے بارے میں کہا:

Hero of the zero hour.

اپوزیشن بنچ کے لوگ اس کو لے اڑے اور منسٹر صاحب کی خوب ہنسی اڑائی۔مسٹر جے پال ریڈی (پیدائش 1942)نے کہا:

The minister is not hero but zero.

یہ واقعہ پڑھ کر مجھے قیامت کا منظر یاد آ گیا۔ قیامت میں یہی واقعہ زیادہ بڑے پیمانے پر ہوگا۔بہت سے لوگ جو دنیا میں بظاہر’’ منسٹر‘‘ بنے ہوئے نظر آتے ہیں، وہ قیامت میں بالکل بےحقیقت ہو جائیں گے۔ آج کامیابی کی اعلیٰ گدیوں پر بیٹھنے والے لوگ کل کی دنیا میں ناکامی کے آخری مقام پر دکھائی دیں گے۔آج کے’’ ہیرو‘‘ کل کے ’’زیرو‘‘ ہوں گے۔

کیسا عجیب دن انسان کے اوپر آنے والا ہے۔ اور کیسا عجیب ہے وہ انسان جو اس سے غافل پڑا ہوا ہے۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion