تشدد کی تزئین
تشدد (violence) کامل معنوں میں ایک تخریبی عمل ہے۔ پوری تاریخ بتاتی ہے کہ تشدد کے ذریعے کبھی بھی کسی فرد یا گروہ کو کوئی مثبت کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ جب بھی کسی فرد یا گروہ نے تشدد کا طریقہ اختیارکیا تو اس کے حصے میں صرف تباہی آئی، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی تعمیر۔اِس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ لوگ بار بار تشدد کا فعل کرتے ہیں، لوگ بار بار متشددانہ کارروائی کرتے ہیں۔ اِ س کا سبب شیطانی تزئین (satanic beautification) ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان کا خاص طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک غلط کام کو خوب صورت الفاظ میں پیش کرتا ہے، وہ فساد کو اصلاح کا نام دیتاہے(15:39)۔ اِس طرح شیطان لوگوں کے ذہن کو متاثر کرتاہے۔ وہ لوگوں کو اِس فرضی یقین میںمبتلا کرتاہے کہ جو کچھ تم کرنے جارہے ہو، وہ تشدد نہیں ہے، بلکہ وہ مقدس جہاد ہے۔ وہ شہادت کا راستہ ہے جو تم کو سیدھے جنت تک پہنچانے والا ہے۔ اِس طرح شیطانی تزئین کا شکار ہو کر لوگ تشدد کا عمل کرنے لگتے ہیں۔ وہ ایک غلط کام کررہے ہوتے ہیں، لیکن شیطان اُن کو اس فریب میں مبتلا رکھتا ہے کہ یہ ایک اچھا کام ہے۔
اِس شیطانی تزئین سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے، وہ یہ کہ اپنے عمل کو نتیجہ (result) کے اعتبار سے جانچا جائے۔ جو متشددانہ عمل تباہی کے انجام تک پہنچ رہا ہو، جس سے ملے ہوئے مواقع برباد ہوتے ہوں، اُس کے بارے میں یہ یقین کرلیا جائے کہ وہ شیطان کی تزئین کا نتیجہ ہے اور پھر توبہ واستغفار کرکے اُس سے دوری اختیار کرلی جائے (الاعراف، 7:201)۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد اپنے آپ میں ایک نامطلوب فعل ہے۔ تشدد کبھی کوئی اصلاح پیدا نہیں کرتا، وہ صرف مزید نقصان کا سبب بنتاہے۔ تشدد ایک حیوانی فعل ہے، وہ کوئی انسانی فعل نہیں۔ تشدد ہمیشہ نفرت اور عداوت سے پیدا ہوتاہے۔ اپنے اندر سے نفرت اور عداوت کی سوچ کو ختم کر دیجیے۔ اِس کے بعد کبھی شیطان آپ کے اوپر قابو نہ پاسکے گا۔ تشدد جیسے فعل سے آپ کامل طورپر محفوظ ہوجائیں گے۔
