جنگ کا حکم
قرآن میں ایک آیت آئی ہےاس کا ترجمہ یہ ہے:تم کو جنگ کا حکم ہوا ہے اور وہ تم کو گراں معلوم ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمہارے لیے بھلی ہو۔ اور ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو۔ اور اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے (2:216)۔
فقہائے اسلام کے نزدیک اسلام میں جنگ کی حیثیت حسن لغیرہ کی ہے، نہ کہ نماز و روزہ کی مانند کوئی ابدی شریعت۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ ساتویں صدی سے پہلے، جب اسلام آیا، تاریخ میں صدیوں کے اثر سے ایک غلط رواج قائم (establish) ہوچکا تھا۔ طویل تاریخی روایت کے نتیجے میں مذہب لوگوں کے لیے سیاسی وفاداری کا معیار بن چکا تھا، یعنی جو شخص حاکم کے مذہب پر ہوتا، وہ ریاست کا وفادار سمجھا جاتا، اور جو حاکم کے مذہب پر نہ ہوتا، وہ ریاست کا وفادار بھی نہیں مانا جاتا تھا۔اسی بنیاد پر یہ ایک مبرر حکم (justified act) بن گیا تھا کہ حاکمِ وقت کے مذہب سے انحراف کرنے والے کو قتل کردیا جائے، یا ایسے لوگوں کے خلاف باقاعدہ جنگ کرکے ان کا خاتمہ کردیا جائے۔ اسی رواج کے نتیجے میں سماج میں وہ سنگین برائی پیدا ہوئی جسے مذہبی جبر (religious persecution)کہا جاتا ہے۔
اسلام میں جب جنگ کا حکم آیا تو جو لوگ اس معاملے کو گہرائی کے ساتھ نہیں سمجھ رہے تھے، ان کے لیے یہ ایک کُرہ (ناگواری) کا معاملہ تھا(البقرۃ،2:216)۔ حالانکہ یہ ایک وقتی رکاوٹ کو دور کرنے کا معاملہ تھا۔ اسلام نے یہ چاہا کہ سخت کارروائی (strong action) کے ذریعے ہمیشہ کے لیے اس کا خاتمہ کردیا جائے۔ تاکہ اگلی نسلوں کے لیے امن اورآزادی کے ساتھ سچے مذہب کو چننے اور اس پر عمل کر نے کے مواقع حاصل ہو جائیں۔ اس کے نتیجے میں تاریخ میں ایک مستقل تبدیلی کا دور آنے والا تھا۔ اس کے نتیجے میں پہلی بار دنیا میں پرامن دور آنے والا تھا، اور ہمیشہ کے لیے کسی رکاوٹ کے بغیر عالمی سطح پر مذہب کے تعارفکا دروازہ کھلنے والا تھا۔ گویا کہ یہ جنگ ، جنگ کے آغاز کے معنی میں نہیں تھی، بلکہ جنگ کے خاتمے کے معنی میں تھی۔
