قرآن کا آسان ہونا
قرآن کے اسلوب کے بارے میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ (54:17)۔یعنی اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے، تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن وضوح (clarity) کی زبان میں ہے، قرآن باعتبار اسلوب ایسی زبان میں نہیں ہے، جس کا مفہوم سمجھنا انسان کے لیے مشکل ہو۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں اللہ رب العالمین کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (112:1) ۔ یعنی کہو ، اللہ ایک ہے۔ یہ وضوح کی ایک مثال ہے۔ یہ آیت کوئی شخص سنے تو وہ فوراً اس کا مطلب سمجھ لے گا۔
اس کے برعکس، اگرخدا کے بارے میں قرآن کی تعلیم تثلیث (trinity) کے تصور پر مبنی ہو تو سننے والے کو اس کا مطلب فوراً سمجھ میں نہیں آئے گا۔ مثلاً قرآن میں خدا کا تصور بتاتے ہوئے یہ کہا جائے کہ خدا کا تصورالتثلیث فی التوحید، والتوحید فی التثلیث پرمبنی ہے— جس کو انگریزی زبان میں تھری اِن ون، اینڈ ون اِن تھری (three in one, and one in three)کہا جاتا ہے — تو اس کو سمجھنے کے لیے قرآن کے قاری کو ایک مدت تک غور کرنا پڑے گا۔
اسی طرح عباسی دور میں مسلمانوں کے درمیان میں جو علم کلام پیدا ہوا، وہ پورا کا پورا ایسی زبان میں ہے، جس کے اندر کوئی وضوح (clarity) نہیں۔ مثلاً اللہ کے تعلق سے علم کلام کا ایک جملہ یہ ہے:القَوْل بِوُجُوب وجود مَوْجُود وجوده لَهُ لذاته غير مفتقر إِلَى مَا يسند وجوده إِلَيْهِ (غاية المرام في علم الكلام للآمدي، صفحہ 1)۔ یعنی اس کے وجود کے موجود ہونے کے وجود کا وجوب اس کی ذات ہے،کسی کی احتیاج کے بغیر، جس کی طرف اس کے وجود کا انحصار ہو۔
حقیقت یہ ہےکہ قرآن کا متن جب تیسیر (وضوح)کی زبان میں ہے، تو آپ کو اس کی تفسیر بھی تیسیر (وضوح) کی زبان میں کرنا چاہیے۔ یہ بات صحیح نہ ہوگی کہ اصل کلام تو تیسیر کی زبان میں ہو، اور اس کی تفسیر عدم وضوح کی زبان میں لکھی جائے۔وضوح (clarity) کی زبان سے مراد فطری اسلوب ہے، یعنی غیر پیچیدہ اسلوب یا مغلق اسلوب (complex style)۔