ظلم کے خلاف مزاحمت

قرآن میں زندگی کی ایک حقیقت کو تکرار کے ساتھ دو آیتوں میں بیان کیا گیا ہے:فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (94:5-6)۔ یعنی، پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اس سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ عسر اور یسر دونوں اس دنیا میں لازم و ملزوم ہیں، یعنی یسر کا دامن عسر کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔

  موجودہ زمانے میں مسلمانوںکے لکھنے اور بولنے والے ایک لفظ کا بہت استعمال کرتے ہیں، وہ ہے ظلم کے خلاف مزاحمت۔ یہ لفظ کسی نہ کسی طور پر لمبی مدت سے دہرایا جارہا ہے۔ لیکن حاصل کچھ نہیں۔ مزید یہ کہ ظلم کے خلاف مسلمانوں کی شکایتیں بڑھتی جارہی ہیں۔

اصل یہ ہے کہ جس چیز کو ظلم کہاجاتا ہے، وہ عسر کا حصہ ہے۔ اس کے خلاف جو چیز تلاش کرنے کی ضرورت ہے، وہ یسر، یعنی مواقع اور پازیٹیو پوائنٹ کو تلاش کرنا۔ یعنی عسر میں جو یسر چھپا ہوا ہے، اس کو تلاش کیا جائے، نہ کہ ظلم کے خلاف ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنا۔ یہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے کہ اس دنیا سے ظلم یا عسر کبھی ختم ہو۔

یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ عسر میں یسر کو تلاش کرے، تو اس کے لیے یسُر نیا راستہ کھول دیتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنے مثبت ذہن کے ساتھ عسر میں یسرکو دریافت کرنے کی کوشش کرے۔

آدمی جب ظلم کے خلاف مزاحمت کرتا ہے، تو اس کو کیا ملتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کو صرف نفرت اور تشدد اور منفی سوچ جیسی چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔ وہ اپنی تعمیری قوت کو کم کرکے قوتِ غضب کو بڑھا لیتا ہے۔ اس کے برعکس،آدمی جب مواقع کو تلاش کرے، تو اس کو کیا ملتا ہے۔ مواقع کو دریافت کرنے کے ذہن سے سوچے تو اس کے اندرمثبت سوچ جاگتی ہے۔ وہ ناکامی کے بعد اپنا احتساب کر کے کامیابی کو تلاش کرتا ہے، وہ دوسروں کے خلاف چیخ و پکار کرنے کے بجائے خود اپنے اندر چھپے ہوئے امکانات کو ڈھونڈتا ہے، اس طرح آدمی کے اندر ایک مثبت سوچ جاگتی ہے۔ جو آخر کار اس کو کامیابی تک پہنچا دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ حالات زار یا ناموافق حالات کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حالات ہمارے لیے موافق نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے۔ اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے:لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ (90:4)۔ یعنی، ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔

 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکلات (hardship)انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ وہ ہمیشہ موجود رہیں گے۔اسی وجہ سے انسان کسی حال میں اپنے آپ کو مشقتوں سے آزاد نہیں کرپاتا ہے۔ ایسی حالت میں مشکلات کے حوالے سے سوچنا بجائے خود درست نہیں۔

انسان کو کبد (عسر) کے اندر پیدا کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کبد زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ کبد کو لے کر اپنی زندگی کا منصوبہ نہ بنائے، بلکہ کبد کے اندر جو موافق حالات موجود ہیں، ان کو لے کر اپنی زندگی کی پلاننگ کرے۔ انسان کا منصوبہ مبنی بر غیر موافق حالات نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مبنی بر موافق حالات ہونا چاہیے۔ یعنی غیر موافق پہلوؤں کے درمیان موافق پہلوؤں کو دریافت کرنا۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion