پیدائشی قوم، فکری گروہ
قرآن میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (2:62)۔ یعنی، بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، ان میں سے جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اس نے نیک کام کیا تو اس کے لیے اس کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور ان کے لیے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اس آیت میں مختلف قومی گروہوں کو لے کر یہ بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اگر پیدائشی تعلق کی بنا پر امت محمد یا امت موسیٰ سے وابستہ ہو گئے ہوں تو اس قسم کی پیدائشی وابستگی نجات کے لیے ہر گز کافی نہیں۔ آخرت کی نجات ذاتی دریافت (self discovery) کی بنیاد پر ہوگی، نہ کہ محض پیدائشی تعلق کی بنا پر۔
دوسرے الفاظ میں یہ کہ پیدائشی ایمان انسان کی نجات کے لیے ہر گز کافی نہیں۔ آدمی اگر پیدائش اعتبار سے مسلم قوم کے اندر پیدا ہوا ہو تب بھی اس کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ ذاتی مطالعہ سے اپنے دین کو دوبارہ دریافت (rediscover) کرے۔ اللہ کے نزدیک دریافت کردہ ایمان کا اعتبار ہے، نہ کہ پیدائشی قومیت کے اعتبار سے ملا ہوا ایمان۔
دین وہی قابل اعتبار ہے جو پیغمبر کے زمانے میں براہ راست پیغمبر سے کسب فیض کے ذریعہ آدمی کو حاصل ہوتا ہے۔ یعنی آدمی کے اندر تلاش کی اسپرٹ پیدا ہو، وہ اپنی زندگی پر نظر ثانی کرے، وہ غور و فکر کے ذریعہ ایک طرز زندگی کو چھوڑے، اور دوسری طرز زندگی کو اختیار کرے۔ وہ غور و تدبر کے ذریعہ پیدائش کی بنیاد پر ملے ہوئے دین کو خود دریافت کردہ دین بنائے۔ یہی وہ حقیقت ہےجو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُو (4:136)۔ یعنی، اے ایمان والو، ایمان لاؤ۔
