وینزویلا کا زلزلہ
24 جون 2026 کو وینزویلا کے شمال مغربی اور وسطی علاقوں میں اسٹرائیک سلِپ نوعیت کے دو شدید زلزلے آئے۔ ان زلزلوں کا مرکز وینزویلا کے شمالی یاشمال مغربی علاقے میں بتایا گیا۔ پہلا زلزلہ، جس کی شدت 7.2 (Mw) ریکارڈ کی گئی، مقامی وقت کے مطابق شام 6:04 بجے آیا۔ اسے ابتدائی جھٹکا (foreshock) قرار دیا گیا۔ اس کے صرف 39 سیکنڈ بعد 7.5 (Mw) شدت کا مرکزی زلزلہ (mainshock) آیا۔ ان زلزلوں نے ملک بھر میں وسیع پیمانے پر تباہی مچائی، خصوصاً لا گوائیرا اور دارالحکومت کاراکاس میں۔
زلزلہ ایسا فطری حادثہ ہے جس کے بارے میں انسان کی علمی ترقی کے باوجود درست پیشین گوئی ممکن نہیں ہے۔ موجودہ سائنس زلزلے کے وقوع کی تاریخ، وقت اور مقام کی قطعی پیشین گوئی نہیں کر سکتی۔ زلزلہ فطرت کا ایک تنبیہی ظاہرہ ہے۔قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت اچانک آئے گی (الاعراف،7:187)۔ اِسی طرح زلزلہ بھی اچانک کسی پیشگی اطلاع کے بغیر آتا ہے۔یہ اس بات کی پختہ یاددہانی ہے کہ انسان اس دنیا کا ماسٹر نہیں ہے، اس دنیا کا ماسٹر اللہ رب العالمین ہے۔ زلزلہ گویا چھوٹے پیمانے پر قیامت کا ایک نمونہ ہے۔ یہ واقعہ اس امکانی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ایک دن پوری دنیا ایک ہولناک زلزلے کی زد میں آئے گی اور یہ سیارۂ زمین ہمیشہ کے لیے ناقابلِ رہائش بن جائے گا۔یہی وہ عظیم حادثہ ہے جس کو قیامت کہا جاتا ہے۔ موجودہ زلزلہ چھوٹا زلزلہ ہے، جب کہ آئندہ آنے والی قیامت اس سے کہیں بڑا زلزلہ ہوگا۔
اِس دنیا میں چھوٹا زلزلہ اِس لیے آتا ہے تاکہ انسان ہوش میں آ جائے اور بڑے زلزلہ کے لیے پیشگی تیاری کرے۔ یہ چھوٹے چھوٹے زلزلے گویا آئندہ آنے والے بڑے زلزلۂ قیامت کی پیشگی اطلاع ہیں۔ چھوٹے زلزلے میں بظاہر کچھ لوگ بچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، لیکن جب قیامت کا بڑا زلزلہ آئے گا تو کسی بھی عورت یا مرد کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو اُس سے بچا سکے۔ ہر زلزلے کے وقت انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ قانونِ قدرت کے مقابلے میں بالکل بے بس ہے۔ یہ چھوٹےزلزلے ہمیں بتاتے ہیں کہ زمین و آسمان کا مالک کس طرح موجودہ دنیا کو ایک دن توڑ ڈالے گا اور اس کے بعد ایک نیا عالم بنائے گا۔عقل مند وہ ہے، جو کل آنے والی غیر فانی دنیا کی تیاری کرے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
