قیادت نامہ— ایک تبصرہ
از:علقمہ صفدر قاسمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
مولانا وحید الدین خاں کی کتاب ’’قیادت نامہ‘‘ میرے لیے ان چند کتابوں میں سے ایک ہے جس نے میرے سوچنے، سمجھنے اور چیزوں کو دیکھنے کا زاویہ بدل دیا۔ یہ کتاب مسلم قیادت کے موضوع پر بالکل منفرد اور حقیقت پسندانہ زاویے سے لکھی گئی کتاب ہے۔ جہاں ایک طرف اس کے ہر سطر میں حقیقت پسندی نظر آتی ہے، وہیں دوسری جانب مسلمانوں کی سیاست و قیادت کی ناکامی بھی متعین انداز میں واضح ہوتی ہے۔مولانا وحید الدین خان مسلمانوں کے مسائل کی نہ صرف درست تشخیص کرتے ہیں، بلکہ غلط تشخیص کی بنیاد پر مسلم رہنماؤں اور قائدین نے جو غلط تدبیریں اختیار کیں، ان کی حقیقت بھی نہایت خیرخواہانہ انداز میں واضح کرتے ہیں۔ تعمیر و ترقی کے نام پر گزشتہ ایک صدی سے ملت کو جو نقصانات پہنچتے رہے ہیں، مولانا نے ان سب کی کھلے اور بے لاگ انداز میں نشان دہی کی ہے۔
جیسا کہ کتاب کا نام ’’قیادت نامہ‘‘ سے ہی ظاہر ہے کہ زیرِ نظر کتاب کن مباحث و موضوعات پر مشتمل ہے اور یہ خصوصاً کن حضرات کے لیے لکھی گئی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کے ارتقا و تنزلی میں دو قیادتیں ہمیشہ بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، ایک مذہبی قیادت اور دوسری سیاسی قیادت۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی دونوں قیادتیں اپنی ذمّہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ اور دونوں ایک ہی کمزوری میں مبتلا ہیں— اور وہ ہےجذباتی ردّ عمل کا طریقہ ۔ دونوں قیادتیں جس طرح کے ردّ عمل میں مبتلا ہیں اس کے ہولناک نتائج ہم اپنی آنکھوں سے روز بروز دیکھ رہے ہیں۔
ہماری مذہبی قیادت زمانی بصیرت سے بے خبری کی بنا پر،جہاں مغرب اور مغربی فکر کے مقابلے میں جذباتی ردّ عمل کا شکار ہو کر بہت سی مفید اور ضروری چیزوں کو ترک کیے ہوئے ہے۔ جس کے نتیجہ میں ہم ترقی کی دوڑ میں پچھڑتے جا رہے ہیں۔ وہیں ہماری سیاسی قیادت بھی پلورل سوسائٹی میں ایسا طریقہ اختیار کرتی ہے ، جس سے سیکولر سوچ رکھنے والے برادران وطن ہم سے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال وہ ہے جو مولانا صاحب نے اپنی ڈائری میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے، ’’ایک صاحب نے کہا کہ آپ موجودہ مسلم لیڈروں کے خلاف لکھتے رہتے ہیں۔ حالاں کہ انھوں نے بھی ایک کام کیا ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو جگایا ہے۔ میں نے کہا کہ میں آپ کی بات میں ایک لفظ کی ترمیم کروں گا۔ ان مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو جگا یا نہیں ہے، انھوں نے مسلمانوں کو بھڑکایا ہے۔
عجیب معاملہ ہے کہ یہی بات ہندو حلقہ میں بھی کہی جاتی ہے۔ ہندو دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہند و سویا ہوا تھا ،ان کے انتہا پسند لیڈروں کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کو جگا دیا۔ مگر یہاں بھی وہی بات ہے ان انتہا پسند لیڈروں نے ہندو قوم کو جگایا نہیں ہے ، انھوں نے ہندو قوم کو بھڑکا دیا ہے۔جس دیش کا یہ حال ہو کہ وہاں کے لوگ جگانے اور بھڑکانے کا فرق نہ سمجھتے ہوں وہ دیش ترقی کس طرح کرے گا، اس سوال کا جواب مجھے نہیں معلوم‘‘۔
یہ چند جملے گویا پوری کتاب کی روح کا خلاصہ ہیں۔ قیادت کے لیے جو بنیادی اوصاف ضروری ہوتے ہیں— دور اندیشی، تحمل، حقیقت پسندی، اور قوم کو جگانے اور بھڑکانے کے فرق کی سمجھ۔ہمارے قائدین بالعموم ان سے ناواقف ہوتے ہیں۔
اس کتاب میں مولانا نے ایک ایسا واقعہ بھی نقل کیا ہے جس سے اندازہ ہوگا کہ مسلمانوں کو ہندستان میں پرسکون اور آرام دہ زندگی گزارنے کے لیے کس طرح کے رویے کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ گر چہ پرانی صورتِ حال سے متعلق ہے، مگر یہ بعید نہیں کہ ہندستانی مسلمان آج بھی اس طریقے کو اپنا کر بہت حد تک اپنے اور اپنے معاشرے کے لیے ایک نارمل ماحول تخلیق کر سکتا ہے۔زندگی کے اس فطری قانون کی طرف ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے:إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْ ءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْ ءٍ إِلَّا شَانَهُُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2594)۔ نرم روی جس چیز میں بھی داخل ہوتی ہے، اس کو خوبصورتی عطا کرتی ہے، اور جہاں سے وہ نکل جاتی وہ چیزعیب دار ہوجاتی ہے۔یہ بات بالکل ممکن ہے کہ اس رویے کو اپنانے کی صورت میں اچانک صورتِ حال تبدیل نہ ہو،ہاں یہ بالکل ممکن ہے کہ دھیرے دھیرے ماحول بدلے۔
مولانا لکھتے ہیں کہ عرب کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک ہندستانی مسلمان سے ہوئی، پہلے وہ ہندستان میں مسلمانوں کے درمیان لیڈری کرتے تھے۔ اس کے بعد انہیں عرب میں ایک اچھا کام مل گیا، اور وہ وہاں منتقل ہو گئے۔ آج کل وہ عرب میں خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ہندستان کیسا وحشی ملک ہے، وہاں آئے دن فسادات ہوتے رہتے ہیں جس سے مسلمانوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔ آپ دیکھیے ہم لوگ یہاں کتنے سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ادھوری بات ہے، یہاں کا نظام آپ کو جو کچھ دے رہا ہے اس کا آپ نے ذکر کیا مگر آپ خود یہاں کے نظام کو جو کچھ دے رہے ہیں، اس کا ذکر کرنا آپ بھول گئے۔
میں نے کہا کہ آپ جس ڈھنگ سے عرب میں رہتے ہیں، اگر ہندستان کے مسلمان ایسے ڈھنگ سے ہندستان میں رہیں تو وہ ہندستان میں بھی اسی طرح باعزت طور پر رہ سکتے ہیں، جس طرح آپ عرب میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیسے؟ میں نے کہا کہ عرب میں آپ کے پرسکون طور پر رہنے کا راز صرف ایک ہے اور وہ یہاں کے نظام کے ساتھ کامل موافقت (ایڈجسٹمنٹ) ہے۔ اگر ہندستان کے مسلمان اپنے ملک کے نظام سے اسی طرح موافقت اور ہم آہنگی کے ساتھ رہیں تو ایک دن میں سارا جھگڑا ختم ہو جائے۔ میں نے کہا کہ ساری عرب دنیا میں وطنی کے مقابلے میں خارجی کو نمبر دو کا شہری سمجھا جاتا ہے، مگر آپ اس کو برداشت کرتے ہیں۔یہاں ایک ہندستانی کے مقابلے میں ایک امریکی کو کئی گنا زیادہ تنخواہ ملتی ہے مگر آپ اس امتیاز کو گوارا کیے ہوئے ہیں۔
یہاں آپ کو یہ اجازت نہیں کہ مسجد میں یا مسجد کے باہر لاؤڈاسپیکر لگا کر تقریر کریں، یہاں آپ نہ کوئی آزاد اخبار نکال سکتے ہیں اور نہ کوئی آزاد رسالہ چھاپ سکتے ہیں۔ مگر اس کے خلاف آپ جیل بھرنے کی مہم نہیں چلاتے، یہاں واضح طور پر بہت سے غیر شرعی امور پر عمل ہو رہا ہے، مگر ان کے بارے میں آپ بالکل خاموش ہیں، آپ حضرات اس قسم کی چیزوں کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کرتے اور نہ مسائل پر کوئی جلوس نکالتے ہیں۔ میں نے کہا کہ عرب میں آپ کو جو پرسکون زندگی حاصل ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہاں کے نظام سے ہم آہنگی اختیار کر کے آپ نے اس کی ضروری قیمت ادا کر دی ہے، اگر ہندستان کے مسلمان یہ قیمت ادا کرنے پر راضی ہو جائیں تو وہاں بھی وہ عزت اور کامیابی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ مسلمانوں میں سے جو لوگ عرب ملکوں میں جاتے ہیں، حتٰی کہ ان کے اکابر جو کانفرنسوں میں شرکت کرنے کے لیے عرب کا سفر کرتے رہتے ہیں، ان کی زندگیوں میں عام ہندستانی مسلمانوں کے لیے زبردست سبق ہے کہ مسلمان عرب میں جا کر جس طرح وہاں کے نظام سے موافقت کر کے رہتے ہیں، اسی طرح ہندستانی مسلمان بھی ہندستان کو اپنا ملک سمجھے اور یہاں کے حالات سے موافقت کر کے زندگی گزارے ۔اس کے بعد، ان شاءاللہ، ان کے لیے یہاں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔
یہ صورت حال صرف عرب ممالک ہی کی نہیں ہے۔ بلکہ یورپ و امریکہ اور دیگر ممالک کی بھی ہے، جہاں ہر جگہ مسلمان کامل موافقت کے ساتھ رہتے ہیں کہیں بھی کوئی قائد ملت حکومت کے خلاف شور و ہنگامہ نہیں کرتا۔ اگر چہ وہاں بھی دسیوں مقامات پر شریعت کے علاوہ دوسرے قوانین نافذ العمل ہیں۔ مگر وہاں کوئی نفاذ شریعت یا تحفظ شریعت کا جلسہ جلوس نہیں ہوتا، اور یہی اس بات کی قیمت ہے جو وہاں پر سارے لوگ امن و سکون کے ساتھ رہتے ہیں۔
اسی لیے ’’قیادت نامہ‘‘ محض ایک کتاب نہیں، یہ ایک آئینہ ہے جس میں مولانا وحید الدین خاں صاحب نے مسلمانوں کی قیادت کا وہ چہرہ دکھایا ہے، جسے دیکھنا تکلیف دہ تو ہے مگر جس سے آنکھیں چرانا مزید تباہ کن ہے۔ جو قوم اپنی کمزوریوں کا سامنا کرنے کے بجائے ان پر پردہ ڈالتی رہے، جو قیادت اپنی قوم کو جگانے کے بجائے بھڑکاتی رہے، اور جو سماج ردِ عمل کو حکمتِ عملی سمجھتا رہے اس کا انجام تاریخ کے ہر دور میں یکساں رہا ہے۔
مولانا کا پیغام نہ مایوسی کا ہے، نہ مصلحت کوشی کا ۔بلکہ یہ ایک باشعور، پر حکمت، حقیقت پسند اور دور اندیش قوم بننے کی طرف دعوت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے آپ کو شکایتوں کی زنجیروں سے آزاد کریں، اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کریں، اور اپنے ماحول سے ٹکراؤ کے بجائے تعمیری ہم آہنگی کا راستہ اختیار کریں۔ یہ راستہ آسان نہیں، مگر یہی وہ راستہ ہے جو تاریخ میں کامیاب اقوام نے اختیار کیا ہے۔
یہ کتاب ہر اس شخص کو ضرور پڑھنی چاہیے جو مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال پر سنجیدگی سے سوچتا ہو، خواہ وہ قائد ہو یا عام فرد— یہ کتاب بتاتی ہے کہ تبدیلی ہمیشہ اوپر یا باہر سے نہیں، بلکہ اندر سے آتی ہے۔
زیرِ تبصرہ کتاب ’’قیادت نامہ ‘‘ کا مطالعہ کرنے
کے لیے اس QR کوڈ کو اسکین کریں:-

