اسلامی مسلک

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اے لوگو،اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلادیں (4:1)۔مفسرابن کثیر نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پیدائش کی اصل ایک باپ اور ایک ماں سے ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کی طرف مائل ہوں:أَنَّ أَصْلَ الْخَلْقِ مِنْ أَبٍ وَاحِدٍ وَأُمٍّ وَاحِدَةٍ لِيَعْطِفَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ (تفسیر ابن کثیر ، جلد1، صفحہ488)۔

حدیث میں یہی بات اس طرح کہی گئی ہے کہ تمام انسان یکساں طور پر اللہ کے بندے ہیں اور سب آپس میں بھائی بھائی ہیں:أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ (مسند احمد، حدیث نمبر 19293)۔اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے:كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ، وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ (مسند البزار، حدیث نمبر 2938)۔ اس اسلامی اصول  کے مطابق، مسلمان اور غیر مسلم سب ایک دوسرے کے لیے بھا ئی بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہندستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی تعلق کی صحیح ترین صورت یہ ہے کہ اس کو برادرانہ بنیاد پر استوار کیا جائے۔ مولانا سید حسین احمد مدنی نے اس کو ’’متحدہ قومیت‘‘ سے تعبیر کیا تھا (ملاحظہ ہو مولانا موصوف کی کتاب،متحدہ قومیت اور اسلام، مطبوعہ 1938، مجلس قاسم العلوم دیوبند)۔ مولانا حسین احمد مدنی کےہندومسلم اتحاد کے نقطۂ نظر کو مزید سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو، مکتوبات شیخ الاسلام، جلد 1،مکتوب65، معارف، 1952۔

1947سے پہلے ہندستان کے تقریباً تمام علما اس مسلک پر متفق تھے۔وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو بھائی بھائی کی طرح متحد کرنا چاہتے تھے۔ مگر بعض ناموافق اسباب کی بنا پر،قومی اتحاد کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ اس کے برعکس، دونوں فرقوں کا تعلق، تقسیم اور علاحدگی پسندی کی بنیاد پر قائم ہو گیا۔ اس تفریقی سیاست کے نہایت مہلک نتائج برآمد ہوئے۔

ملک کی تقسیم کے بعد فرقہ وارانہ سیاست کا طوفان ختم ہوا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے دسمبر1947 میں لکھنؤ میں ایک مسلم کانفرنس کی۔مولانا آزاد نے اس موقع پر صدارتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے موجودہ حالات اور ملک کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے اس سے زیادہ کوئی ضروری چیز نہیں ہوسکتی کہ فرقہ واریت کو جو مذہب کے نام پر ابھاری گئی ہے،ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے۔اگر ہمیں بربادی سے بچنا ہے تو فرقہ پرستی کے تمام دروازوں کو ہمیں بند کر نا پڑے گا۔ اور ہندو مسلم تعلق کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بنیاد پر قائم کرنا ہوگا۔ضرورت ہے کہ علما کے اس مسلک کو جو مکمل طور پر قرآن و سنت پر مبنی تھا، اس کو دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ زندہ کیا جائے۔ مسلمانانِ ہند کے لیے بلاشبہ صحیح اور مفید پالیسی یہی ہے کہ اس ملک میں دونوں فرقوں کے تعلق کو اخوت اور اتحاد کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔

الرسالہ مشن پچھلے 20 سال سے یہی خدمت انجام دے رہا ہے۔ اس مشن کو علمائے اسلام کی تائید حاصل ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس اصلاحی مہم کو مزید موثر اور کامیاب بنایا جائے۔ اس سلسلہ میں چند بنیادی نکات حسب ذیل ہیں

1۔    ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان برادرانہ احساس کوزیادہ سے زیادہ ابھارا جائے۔ ان کے باہمی تعلق کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیاجائے۔اس کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کی جائے کہ دونوں فرقوں کے درمیان معتدل فضا میں برادرانہ اختلاط ہونے لگے ۔

2۔    مسلمان احتجاج غیر کے بجائے تعمیر ذات کو اپنی مستقل پالیسی بنائیں۔وہ احتجاج اور مظاہرہ اور جلوس کے طریقہ کو یکسر چھوڑدیں۔شکایت کے مواقع پروہ ٹکراؤ سےبچیں اورہمیشہ پر امن تدبیر کے ذریعہ نزاعی معاملات کو طے کرنے کی کوشش کریں۔نزاع کے موقع پر ٹکراؤ کا طریقہ نزاع کو بڑھاتا ہے اور مفاہمت کا طریقہ نزاع کو ختم کردیتا ہے۔

3۔    تعلیم اور اقتصایات کو سب سے زیادہ قابل توجہ چیز قراردیا جائے۔مسلمانوں میں تعلیم اگر عام ہو اور ان کی اقتصادی حالت بہتر ہوجائے تو اس کے بعد تمام مسائل اپنے آپ حل ہوجائیں گے۔

4۔    ہر مقام پر ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ امن کمیٹیاں بنائی جائیں۔ اس کے ذریعہ یہ کوشش ہو کہ امن اور اتحاد کو برہم کرنے والے ہر واقعہ کوابتداہی میں حسنِ تدبیر سے ختم کردیا جائے۔

5۔    لوگوں میں یہ مزاج پیدا کیا جائے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہوکر رہنا سیکھیں۔ رایوں کے فرق کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کریں۔(مطالعہ حدیث، صفحہ263-264)

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion