مبنی برخوف، مبنی بر فخر

اسلام کے ماننے والوں کا دین اگر خوف ِخدا اور مسئولیت(accountability) پر قائم ہو، تو وہ صراط مستقیم پر ہوتے ہیں۔ ان کی زندگیوں میں اسلام اپنی حقیقی صورت میں قائم رہتا ہے۔ اس کے برعکس، جب ان کا دین فخر (pride)پر قائم ہو جائے تو وہ صراط مستقیم سے ہٹ جاتے ہیں۔ان کا اسلام قومی اسلام بن جاتا ہے۔ وہ اس اسلام سے دور ہو جاتے ہیں جو اللہ تعالی کو مطلوب ہے۔

اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اصحابِ رسول کا نمونہ، اسلام کی حقیقی صورت کو بتاتا ہے۔ اصحابِ رسول کا اسلام خوفِ خدا کی اسپرٹ پر قائم تھا۔ اسی لیے اسلام میں ان کو ماڈل کا درجہ حاصل ہے (القدوۃ ھم)۔ بعد کے زمانے میں جب مسلمانوں کی تعداد بڑھی اور دنیا میں ان کا سیاسی ایمپائر قائم ہو گیا، اس وقت سے مسلمانوں کے مزاج میں آہستہ آہستہ ایک تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ اب یہ ہوا کہ جو مسلم مائنڈ پہلے خوفِ خدا کے مزاج سے بنا تھا، وہ مسلم مائنڈ اب فخر کے مزاج کے تحت بننے لگا۔ اس طرح بعد کے مسلمان اپنی سیاسی عظمت (political glory) میں جینےلگے۔

 موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ عام طور پر فخر کی نفسیات میں جیتے ہیں۔وہ اسلام کو اپنے لیے فخر کا عنوان بنائے ہوئے ہیں۔ یہ اسلام ،مسلمانوں کی سیاسی تاریخ سے ماخوذ اسلام ہے، وہ خود اسلام سے ماخوذ اسلام نہیں۔ایسے مسلمانوں کو صرف ایک ہی چیز کی طرف رغبت ہوتی ہے۔ اور وہ ہے، عہد رفتہ (past) کی عظمت کا تذکرہ کرنا یا اس کی طرف واپسی کی مہم چلانا۔

مگر فخر پر مبنی اسلام کی خدا کے یہاں کوئی حیثیت نہیں۔ خدا کے یہاں مقبول اسلام وہ ہے، جو خدا کے ساتھ محبت اور خوف کے احساس پر قائم ہو، جو خدا کی دریافت پر مبنی ہو، نہ کہ سیاسی عظمت کی دریافت پر۔ سچا اسلام وہ ہے، جو آدمی کے لیے اس کے دل کی تڑپ بن جائے۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion