خدا کی نشانیاں

ستمبر 1982 کی سات تاریخ تھی۔ میں افریقہ کے ایک پہاڑی علاقہ میں ایک درخت کے سامنے کھڑا تھا۔ یہ درخت میرے لیے نیا تھا۔ اس سے پہلے میں نے اس قسم کا درخت نہیں دیکھا تھا۔

درخت اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی نشانی معلوم ہو رہا تھا۔ اس کی ہر چیز میری نظر میں عجیب تھی، اس کا نازک پھول، اس کا ترشا ہوا پھل، ریاضیاتی کاریگری کے ساتھ بنی ہوئی اس کی پتیاں تمام چیزیں پکار رہی تھیں کہ وہ اپنے آپ نہیں اُگ آئی ہیں،بلکہ کسی بنانے والے نے ان کو بنایا ہے۔ اس دنیا کا ہر درخت صنعت گری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ مگر مذکورہ درخت پہلی بار میرے سامنے آیا اس لیے وہ خصوصی طور پر میرے لیے اثر انگیز ثابت ہوا۔

افریقہ کے اس عجیب اور حسین درخت کو دیکھ کر بے ساختہ میری زبان سے نکلا— ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اس دنیا میں جو چیزیں بنائیں ان میں سے ہر چیز پر اس نے یہ لکھ دیا:

Made by God

( خدا کا بنایا ہوا)۔خدا نے چیزوں پر یہ لکھا اور اس کے بعد اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا لیا۔ تاکہ لوگ مخلوق کو دیکھ کر خالق کو پہچانیں، تاکہ غیب کے باوجود لوگ اس دنیا میں خدا کی موجودگی کو پالیں۔

ایک شخص جو مشینوں کا ماہر ہو وہ ایک مشین کو دیکھ کر کہہ دیتا ہے کہ یہ مشین روس کی بنی ہوئی ہے یا امریکا کی، برطانیہ کی بنی ہو ئی ہے یا جاپان کی، چین کی بنی ہوئی ہے یا ویتنام کی۔ ٹھیک یہی  معاملہ کائنات کی تمام چیزوں کا ہے۔ ہم ایک ایسی کائنات میں رہتے ہیں جہاں بے شمار قدرتی  ’’مشینیں‘‘ موجود ہیں، اورہر ایک مسلسل اپنا کام کر رہی ہیں۔ یہ وسیع اور عظیم کائنات مسلسل طورپر متحرک ہے۔ اس کے اندر ہر لمحہ انتہائی با معنی قسم کی سرگرمیاں (meaningful activities) جاری ہیں۔ اسی طرح جدید سائنسی مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات ناقابل قیاس حد تک وسیع ہونے کے باوجود آخری حد تک ایک ہم آہنگ (harmonious)کائنات ہے۔ وہ مکمل طورپر ایک واحد فورس سے کنٹرول ہورہی ہے۔ اس کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے کامل طور پر جڑے ہوئے ہیں۔کائنات کی اِس عالمی ہم آہنگی پر تمام سائنس داں حیرت زدہ ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اِس غیر معمولی ہم آہنگی کی توجیہ کس طرح کی جائے۔

 ان ’’مشینوں ‘‘ پر بظاہر ان کے خالق کا ٹھپہ نہیں لگا ہوا ہے ، مگر اپنی غیر معمولی بناوٹ اور ناقابلِ بیان حد تک ممتاز کارکردگی کی وجہ سے وہ اپنی ساخت کا آپ اعلان ہیں۔ مخلوقات خود اپنے خالق کو بتا رہی ہیں۔ کائنات میں موجودحیرت انگیز ڈیزائن، بے پناہ نظم ، انتہا درجہ کی معنویت اِس بات کا ثبوت  دیتاہے کہ یہ کائنات ایک ذہین قادرِ مطلق خدا کے چلانے سے چل رہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پوری کائنات ایک لمحے کے اندر منتشر ہو کر رہ جائے۔ کائنات کے اندر یہ کامل ہم آہنگی صرف اُس وقت ممکن ہے، جب کہ اُس کا ناظم اپنے اندر اعلی درجہ کی ذہانت اور قدرتِ کاملہ کی صفت رکھتا ہو۔

کائنات کی کسی چیز کے اوپر لفظوں میں یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ اس کو کس نے بنایا۔ مگر معنوی طور پر ہر ایک کے اوپر لکھا ہوا موجود ہے۔ تخلیق کے ہر جزء پر خالق کی اسٹیمپ (stamp) لگی ہوئی ہے۔اگر دیکھنے والی نگاہ ہو تو آدمی ہر چیز کو دیکھ کر پکار اٹھے گا:بلاشبہ یہ خدا کی بنائی ہوئی ہے۔ کوئی دوسرا اس کو بنا نہیں سکتا۔ ایک جرمن سائنس داں پروفیسر کارل ٹرال (1899-1975) نے کہا— میری زندگی کا حاصل بحیثیت سائنٹسٹ اور جغرافیہ داں یہ ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ خالق کا شکر گزار ہوگیا ہوں

"The fruit of my life as a scientist and geographer is to have become more and more deeply grateful to our Creator."

کسی شخص کا اصل معبود وہی ہے جس کو اس نے اپنے حب شدید کا مرکز بنایا۔ جس نے کسی کو اپنے قلبی تعلق کا تحفہ دیا، وہی اس کا معبود ہے۔ ایسا آدمی اگر زبان سے اللہ کو اپنا معبود بتاتا ہے، لیکن اس کا قلبی تعلق کسی اور سے ہے تو وہ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف، 61:2) کا مصداق ہے۔ یعنی، قلبی تعلق کسی اور کو دینا، اور زبان سے اللہ کو اپنا معبود بتانا۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion