تخلیقیت
موجودہ دنیا مختلف قسم کے اسباب اور احوال سے بھری ہوئی ہے۔ یہ اسباب اور احوال ہم سے الگ اپنا وجودرکھتے ہیں اور آپ اپنے زور پر قائم ہیں۔ ہم ان سے ہم آہنگی کرکے اپنا مقصد حاصل کرسکتے ہیں، ان کو نظر انداز کر کے منزلِ مقصودتک پہنچنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔
اس صورت حال کے تقاضوں میں سے ایک تقاضا یہ ہے کہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ پیش آمدہ حا لات کے اعتبار سے پورے معاملہ پر ازسرِنو غور کرسکے۔ وہ مسئلہ کا نیا حل دریافت کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اسی معنی میں ایک فرانسیسی مفکراِميل شارتييه (Emile Chartier, 1868-1951)نے کہا ہے کہ کوئی چیز اس سے زیادہ خطرناک نہیں کہ آدمی اپنے پاس صرف ایک ہی تصور رکھتا ہو
Nothing is more dangerous than an idea when it is the only one we have.
اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کے حل کے لیے ہماری ابتدائی تدبیر غیر موثر ہو جاتی ہے۔ ایسے موقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ ہم اپنی سابقہ سوچ کے دائرہ سے نکل کر کوئی نئی تدبیر اختیار کر سکیں۔ اسی صلاحیت کا نام تخلیقیت(creativity)ہے۔اور اسی تخلیقی صلاحیت میں آدمی کی کامیابی کا راز چھپا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس اصول کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ غزوۂ بدر(2 ہجری)کے موقع پر آپ دشمنوں سے لڑے۔ مگر غزوۂ احزاب (5 ہجری) کے موقع پر آپ نے اپنے اور دشمن کے درمیان خندق کی رکاوٹ قائم کردی۔ غزوۂ احد (3 ہجری) میں آپ نے اپنے مخالفین سے باقاعدہ جنگ کی اور حدیبیہ (6 ہجری) کے موقع پر جنگ کیےبغیر واپس چلے آئے۔ غزوۂ حمراء الاسد (3 ہجری) میں آپ نے اعلان واظہارکے ساتھ مارچ کیا، مگر برعکس طور پرفتح مکہ (8 ہجری)کے سفر میں مکمل خاموشی کا طریقہ اختیار فرمایا، وغیرہ۔(الرسالہ، جون 1987)
