وقت اور سمجھ
ایک دانشمند کا قول ہے— وقت اور سمجھ دونوں اکثر ساتھ ساتھ نہیں آتے۔ جب وقت آتا ہے تو سمجھ نہیں ہوتی اور جب سمجھ آتی ہے تو وقت نکل چکا ہوتا ہے۔
یہ قول بہت بامعنی ہے۔ اس کا تعلق افراد سے بھی ہے اور قوموں سے بھی۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو افراد کے ساتھ بھی پیش آتا ہے۔ اور قوم کے ساتھ بھی۔
یہی اس دنیا میں کسی بڑی کامیابی کی سب سے بڑی شرط ہے۔ جو لوگ شعوری اعتبار سے اتنا زیادہ بیدار ہوں کہ جب کوئی موقع (opportunity) آئے تو فوراََ وہ اس کو پہچان لیں اور حکمت کے ساتھ اس کو استعمال کریں ،تو ایسے ہی لوگ اس دنیا میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کا شعور اس طرح بیدار نہ ہو، ان کا حال یہ ہوگا کہ مواقع ان کے سامنے آئیں گے، لیکن وہ ان کو استعمال نہ کر سکیں گے۔ وہ مواقع کو صرف اس وقت پہچانیں گے جب کہ ان کا وقت گزر چکا ہو۔
مثال کے طور پر اجتماعی زندگی میں کامیابی کے لیے انٹرایکشن(interaction) کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ انٹرایکشن کے ذریعے تعلقات بنتے ہیں اور پھر یہی تعلقات ترقی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ قدیم زمانے میں انٹرایکشن کا ذریعہ زراعت ہوا کرتا تھا۔ موجودہ زمانے میں یہ ذریعہ ختم ہوا ،اب تعلیم(education) انٹرایکشن کا نیا میدان بن گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں سیکولر ایجوکیشن اسی انٹرایکشن کا میدان ہے،لیکن مسلم رہنماؤں نے اس کو نہیں سمجھا۔ انہوں نے علاحدہ تعلیمی ادارے قائم کر کے مسلم نسلوں کو اس انٹرایکشن سے محروم کر دیا۔آج مسلمانوں کو قومی اور اجتماعی زندگی میں جو مسائل درپیش ہیں، اس کا بڑا سبب یہی ہے۔ مسلمان جدید سماجی دھارے سےالگ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کی بستیاں زیادہ تر گھیٹو (ghetto)کی مانند ہیں۔ وہ دوسروں سے دور ہیں اور دوسرے ان سے دور۔ یہ دوری کسی بڑی ترقی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
