مشن کلچر، خواہش کلچر
ایک تعلیم یافتہ مسلمان کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ایک معاملے میں آپ سے مشورہ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے کئی بچے ہیں۔میں نے اپنے بچوں کی ہر خواہش پوری کی، تاکہ وہ میرے کہنے میں رہیں۔ مگر اب حال یہ ہے کہ بچے میری بات نہیں سنتے، لڑکیوں کا بھی یہی حال ہے۔ اور لڑکوں کا بھی یہی حال ہے۔
اس معاملے کو میں نے اس وقت سمجھا جب کہ مجھے ایک تقابل کا موقع ملا۔ایک اور مسلمان ہیں۔وہ اپنے معاشی کام کے علاوہ الرسالہ کی ایجنسی چلاتے ہیں۔ وہ اپنے گھر کے تمام افراد کو الرسالہ پڑھاتے ہیں۔ وہ گھر کے اندر اور گھر کے باہر صرف الرسالہ مشن کا چرچا کرتے ہیں۔وہ اپنی آمدنی کا ایک قابل لحاظ حصہ الرسالہ اور الرسالہ مطبوعات کی اشاعت میں لگاتے ہیں۔ان کے بھی کئی بچے ہیں۔ لیکن سب بچے صالح ہیں۔ اور جائز طور پر اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔
اس تقابل میں دیکھیے تو پہلے گھر میں خواہش کلچر رائج ہوا ،اور دوسرے گھر میں مشن کلچررائج ہوا۔ اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ پہلے گھر کے بچے بگڑ گئے اور دوسرے گھر کے بچے بگڑنے سے بچ گئے۔ انہیں دونوں واقعات میں تمام گھروں کی کہانی چھپی ہوئی ہے، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی۔
جس گھر میں خواہش کلچر چلے، وہاں اصول کلچر نہیں چل سکتا۔ایسے گھر میں لوگ اپنی اپنی خواہش پر چلنے لگیں گے ،نہ کہ کسی اعلی اصول پر۔ اس کے برعکس، جس گھر میں مشن کلچر چلایا جائے، وہاں لوگوں کی سوچ کا رخ بدل جائے گا۔مشن کا مزاج لوگوں کے اندر سنجیدگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرے گا۔ان کے ذہن میں کامیابی اور ناکامی کا معیار مشن کی نسبت سے متعین ہوگا۔ وہ اپنی زندگی کو خدائی احکام اور اخلاقی ڈسپلن کا پابند بنائیں گے، نہ کہ اس سے آزاد۔
