کامیاب عمل کا راز
کامیاب عمل کا راز کیا ہے۔ حالات کو پڑھ کر اپنے لیے نقشہ بنانا۔اس کے لحاظ سے کام کرنا،یعنی کامیابی نام ہے ممکن مواقع کو اپنے لیے اویل کرنا۔ رسول اللہ ﷺکی زندگی سے یہی معلوم ہوتا ہے۔جب آپ مکہ میں رہے،تو مکہ کے لحاظ سے کام کیا، اور مدینہ گئے تو مدینہ کے لحاظ سے کام کیا۔
مثلاً آپ نے مکہ میں تیرہ سال تک مشن کا کام کیا۔ مگر آپ نے مکے میں بتوں کو نہیں توڑا،اور نہ ہی ان بتوں کے خلاف کوئی بیان بازی کی۔ اس کے برعکس، آپ نے یہ کیا کہ بتوں کی زیارت کے لیے آنے والے آڈینس (audience)کو اپنا پیغام پہنچایا۔ یعنی آپ کو یہ سمجھ میں آیا کہ مکہ میں کام کے بہت مواقع ہیں، لیکن بتوں کو توڑنا صحیح نہیں ہے۔ اس لیے آپ نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی سے وقتی طور پر اعراض کیا اور مکہ کے باہر سےبتوں کی زیارت کے لیے آنے والے عربوں کو اپنے آڈینس کے طور پر دیکھا، اور انھیں مکمل خیرخواہی کے ساتھ خدا کا پیغام پہنچایا۔ یہ منصوبہ پوری طرح کامیاب ثابت ہوا۔
اس کے برعکس، موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندربہت سی تحریکیں چلائی گئیں، مسلم رہنماؤں نے اسلام کے احیا کے لیے بہت زیادہ کوششیں کیں۔ ان کے پاس مسلمانوں کی بڑی بھیڑ اکٹھا ہوگئی۔ مگر ان کی کوششیں کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive)ثابت ہوئیں۔ ان کی قربانیوں کا کوئی مثبت نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔ اس معاملے میں ہماری تاریخ یہ ہے— جان و مال کی قربانیوں کا ڈھیر، مگر نتیجہ کے اعتبار سے صِفر (zero)کے سوا اور کچھ نہیں۔
اسلام کی پوری تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ قربانی کی حد تک عالمی کوششوں کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے کامیابی کا مجرب فارمولا چھوڑ دیا، اس لیے ان کی کوششیں بھٹکاؤ کا شکار ہو کر رہ گئیں۔ وہ مجرب فارمولا جگر مرادآبادی (1890-1960) کے الفاظ میں یہ تھا:
ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانیں اپنا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
