رسول اللہ کا امی ہونا
پیغمبر اسلام ایک اُمّی رسول تھے۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ امی ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آپ کے اندر حروف شناسی کا مادہ نہ تھا۔ حروف شناسی آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ لکھ سکے، اور پڑھ سکے۔ پیغمبر اسلام لکھنا اور پڑھنا نہیں جانتے تھے، مگر آپ کا کلام بتاتا ہے کہ آپ اعلیٰ درجے کی عربی زبان بولنے پر قادر تھے۔
مثلا آپ کا ایک قول یہ ہے:مَا رَأَيْتُ مِثْلَ الْجَنَّةِ، نَامَ طَالِبُهَا، وَمَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ، نَامَ هَارِبُهَا (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 1638)۔ یعنی، میں نے نہیں دیکھا جنت کے مثل کہ اس کا طالب سویا ہوا ہے، اور نہیں دیکھا جہنم کے مثل کہ اس سے بھاگنے والا سویا ہوا ہے۔ آپ کے اس قول میں فصاحت و بلاغت اعلیٰ درجے کی موجود ہے۔ اسی طرح آپ کی وہ تقریر جو آپ نے غزوۂ حنین کے بعد کی تھی، عربی ادب کی تاریخ میں اعلیٰ مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس طرح کی مثالیں آپ کے کلام میں کثرت سے موجود ہیں۔یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ رسول اللہ کی حروف شناسی میں دو رائے ہوسکتی ہے، لیکن جہاں تک عربی زبان کا معاملہ ہے، آپ کی زبان دانی ہر طرح کے شبہ سے بالاتر ہے۔
تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں، جب کہ ایک شخص لکھنے پڑھنے سے محروم ہو نے کے باوجود زبان دانی کی اعتبار سے باکمال حیثیت رکھتا ہو۔ اس کی ایک مثال انگریزی کا شاعر جان ملٹن (1608-74) ہے۔ ایک بیماری کے نتیجے میں اس کی بینائی مکمل طور پر چلی گئی تھی۔ اس وقت وہ 44 سال کا تھا۔ وہ لکھنے پڑھنے سے محروم ہوچکا تھا۔ لیکن اسی زمانے میں اس نے ایک طویل نظم لکھی تھی، جو فردوس گم شدہ (Paradise Lost) کے نام سے مشہور ہے۔ یہ کتاب پوری کی پوری املا کے ذریعہ لکھی گئی ہے۔ لیکن اسے انگریزی زبان میں ماسٹر پیس (masterpiece) سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک مثال ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص جو لکھنے اور پڑھنے سے محروم ہونے کے باوجود زبان دانی میں اعلیٰ صلاحیت کا مالک ہوسکتا ہے۔
