کامیاب انسان
کامیاب انسان کی پہچان یہ ہے کہ جب وہ اس دنیا سے جائے تو پیچھے کی سیڑھیاں بنا کر جائے، جس پر چڑھ کر اس کے بعد والے آگے بڑھ سکیں۔اس کی وضاحت کے لیے میں یہاں ایک مثال پیش کروں گا۔ جنوبی افریقہ کے ناول نگار اولیو شرینر (1855-1920) کی ایک کتاب ہے— افریقی فارم کی کہانی:
Story of an African Farm
اس کتاب کا ایک اقتباس میں نے اپنی کتاب الاسلام کے مقدمہ میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے:
اس میں ایک اجنبی مسافر ایک کسان کے لڑکے کو ایک شکاری کا قصہ بیان کر تا ہے۔ اس شکاری کو سچائی کی خوبصورت سفید چڑیا کی تلاش تھی جس کی ایک جھلک اس نے ایک جھیل کے کنارے دیکھی تھی۔ اس نے خوش اعتقادی کے پھندے اور تصورات کے پنجرے میں چڑیا کو پکڑنا چاہا۔ مگر اسے معلوم ہوا کہ سچائی کو سچائی ہی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس نے تو ہمات کی وادی کو چھوڑدیا اور سچائی کے پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا۔ وہ چڑھتا رہا۔ یہاںتک کہ وہ ایک اونچی کھڑی ہو ئی چٹان کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے اس چٹان کو کاٹ کاٹ کر سیڑھیاں بنانی شروع کیں۔ سالہا سال تک وہ سیڑھیاں بنا تا رہا اور اوپر چڑھتا رہا، یہاں تک کہ بوڑھا ہو تے ہو تے وہ اس چوٹی پر پہنچ گیا۔ مگر اب اسے معلوم ہوا کہ اس کے آگے ایک اور چٹان ہے جو اس سے بھی زیادہ اونچی ہے۔ مگر اب اس کی عمر ختم ہو جاتی ہے اور وہ وہیں مر جا تا ہے۔ تا ہم مرتے وقت اوپر سے ایک سفید پر آکر اس کے پاس گرا۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ مطلوب چڑیا اس اگلی چٹان پر ہے۔ اگر چہ وہ خود سچائی کی چڑیا تک نہیں پہنچ پاتا، مگر وہ اس اطمینان کے ساتھ جان دے دیتا ہے کہ میرے بعد آنے والے کو پچھلی سیڑھیا ں بنانی نہیں پڑیں گی۔ وہ پر کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے اور یہ کہتے ہو ئے مر جا تا ہے کہ جہاں آج میں بوڑھا اور کمزور ہو کر گر پڑا ہوں ، دوسرے لوگ یہاں سے کھڑے ہوںگے۔ نوجوان اور تازہ دم۔ جو سیڑھیاں میں نے کاٹی ہیں ، وہ اس سے چڑھیں گے۔ وہ کبھی نہ جانیں گے کہ سیڑھیاں بنانے والے کا نام کیا تھا۔ مگر وہ ان سیڑھیوں کو چڑھتے رہیں گے اور بالآخر سچائی تک پہنچ جا ئیں گے:
Where I lie down, worn out, other men will stand, young and fresh. By the steps that I have cut, they will climb; by the stairs that I have built, they will mount. They will never know the name of the man who made them. At the clumsy work, they will laugh; when the stones roll, they will curse me. But they will mount, and on my work; they will climb, and by my stair! They will find her and through me! (Story of an African Farm by Olive Schreiner, Chicago, pp. 198-199)
یہی وہ حقیقت پسندانہ طریقہ ہے جو انسان کو اپنے مقصد کی طرف مسلسل آگے بڑھاتا ہے۔ تعمیری کام ہمیشہ درست منصوبہ بندی، بتدریج کوشش کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ایسے آدمی کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ ممکن سے آغاز کرتا ہے۔ وہ کبھی ناممکن سے آغاز کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اسی طرح وہ چھوٹے سے آغاز کرتا ہے،وہ بڑے سے آغاز کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اسی طرح وہ درست منصوبہ بندی(right planning) سے کام شروع کرتا ہے، وہ کبھی وش فل تھنکنگ (wishful thinking)سے آغاز نہیں کرتا۔ اس اعتبار سےوہ اپنے کام کا مسلسل جائزہ لیتا رہتا ہے۔ ا س کا طریقہ یہ نہیں ہوتا کہ کام تو کرے، مگر اس کا جائزہ نہ لے۔
———————
