امتیازی سلوک

ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔وہ ایک بڑی کمپنی میں سروس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کمپنی میں امتیاز (discrimination) کا سلوک کیا جاتا ہے۔ ہماری کمپنی کا باس(boss) ایک کمیونل ذہن (communal mind) کا آدمی ہے۔ مثلاًَ اس نے میرے ایک ساتھی (colleague)کا پروموشن کر دیا اور میرا پروموشن ابھی تک نہیں کیا، وغیرہ۔

میں نے کہا کہ جس چیز کو آپ امتیازی سلوک (discrimination)سمجھ رہے ہیں، وہ زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اصل یہ ہے کہ امتیازی سلوک کا وجود خارج میں نہیں ہوتا، وہ آپ کے اپنے ذہن میں ہوتا ہے۔ یہ آپ کی اپنی سوچ ہے کہ ایک واقعہ جو فطری اسباب کے تحت پیش آیا ہو، اس کو آپ اپنے حق میں امتیاز سمجھ لیتے ہیں۔ آ پ کا یہ احساس صرف اس لیے ہوتا ہے کہ آپ اس دریافت میں ناکام رہے کہ جو کچھ ہوا وہ کیوں ہوا۔

میں نے کہا کہ جو واقعہ پیش آیا وہ تو لازماً پیش آئے گا۔ اس کے پیش آنے کو آپ روک نہیں سکتے۔ مگر ایک چیز آپ کے اختیار میں ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنے آپ کو کمتری کے احساس سے بچائیں۔ پیش آنے والے واقعے کو اگر آ پ اسباب کا نتیجہ سمجھیں تو اس کے پیش آنے کے باوجود آپ نارمل بنے رہیں گے۔ آپ کا اپنا ذہنی سکون بدستور باقی رہے گا۔ اس کے برعکس، اگر آپ پیش آنے والے واقعے کو امتیازی سلوک کا نتیجہ سمجھیں تو آپ کا احساس یہ ہو جائے گا کہ مجھے حقیر سمجھا گیا۔

 جو واقعہ پیش آیا اس میں آپ کا کوئی دخل نہ تھا، لیکن آ پ کا احساسِ کمتری خود آپ کا اپنا پیدا کیا ہوا ہے۔ دوسرے کے اوپر آ پ کا بس نہیں۔ لیکن آپ کی اپنی ذات پوری طرح آپ کے قبضے میں ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کا فارمولا صرف ایک ہے— اپنے آپ کو اپنے آپ سے بچائیں:

Save yourself from yourself.

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion