رائٹ ٹریک
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ انسان کو ابتلا کے لیے مصیبتوں میں ڈالتا ہے(البقرۃ، 2:155)۔ ابتلا کا مطلب، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، مصیبت نہیں ہے، بلکہ اصلاح کے لیے شاک ٹریٹمنٹ ہے(الاعراف، 7:168)۔ انسان جب رائٹ ٹریک سے ہٹ جاتا ہے، تو خدا اس کو شاک پہنچاتا ہے تاکہ وہ دوبارہ رائٹ ٹریک پر آجائے۔ یہ طریقہ دیندار لوگوں کے لیے بھی ہے، اور سیکولر لوگوں کے لیے بھی۔ اور یہ طریقہ پوری تاریخ میں جاری رہا ہے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ بہت کم لوگوں نے اس سے سبق لیا ہے۔
مثلاً موجودہ زمانے میں مسلم لیڈروں کو اپنے پولٹیکل پلان میں ناکامی ہوئی۔ یہ شاک ٹریٹمنٹ تھا تاکہ مسلمان لیڈر جانیں کہ ان کی گاڑی رائٹ ٹریک سے ہٹ گئی ہے۔ مگرعملاً یہ ہوا کہ ہمارے لیڈروں نے یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردیا کہ ہمارے دشمنوں کی سازش ہے۔ تقریباً تمام مسلم لیڈروں نے یہی غلطی کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کسی رہنما نے اپنے ٹریک کو بدلا نہیں، اور بدستور اپنے اختیار کردہ ٹریک پر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ ناکامی کی تاریخ بنا کر اس دنیا سے چلے گئے۔ یہی تقریباً تمام رہنماؤں کا حال ہوا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ مسلم رہنما اپنی اس روش کو بدلیں۔ وہ سازش کی زبان بولنا بند کریں، اور ہر بار جب ان کو کسی ناکامی کا سابقہ پیش آئے تو اس کو وہ خدا کی طرف سےاس بات کا اشارہ سمجھیں کہ اپنی گاڑی کو دوبارہ رائٹ ٹریک پر لاؤ، تاکہ تمھارا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رہے۔ مثلاً جمال الدین افغانی، محمد علی جناح، سید ابوالاعلیٰ مودودی وغیرہ نے ملت کی گاڑی کو سیاست کے راستے پر چلا دیا تھا۔ مگر ان کو اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں مکمل طو رپر ناکامی ہوئی۔ مگر انھوں نے اور ان کے پیروؤں نے یہ اعلان کر دیا کہ یہ دشمنوں کی سازش کا نتیجہ تھا۔ ہر ناکامی فطرت کی طرف سے یہ اعلان ہے کہ تم راستہ بھٹک گئے ہو، اپنے آپ کو دوبارہ رائٹ ٹریک پر لے آؤ۔
