انسان جاگ اٹھا

24 جنوری 1993 کو میں جبل پور میں تھا۔یہاں ناگپور کے جناب عبدالسلام اکبانی (پیدائش 1947)سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان کیا جس میں بہت بڑا سبق ہے۔

عبدالسلام اکبانی صاحب نے 1990 میں ناگپور کے ایک ہندو پربھاکرہزارے سے 6 لاکھ روپے میں ایک زمین کی خریداری کا معاملہ کیا۔ طے ہوا کہ عبدالسلام صاحب بطور ایڈوانس 2 لاکھ روپے مالک کو دے دیں گے۔ چھ ماہ بعدرجسٹری ہو گی اور اسی وقت بقیہ رقم ادا کردی جائے گی۔دو مہینے کے بعد مالکِ زمین نے کچھ وجہ بتا کر دو لاکھ روپے اور وصول کرلیا۔اب مالکِ زمین کے ہاتھ میں چار لاکھ روپے آگیا۔اس درمیان میں زمین کی قیمت بڑھ گئی۔اس کے بعد مالک زمین کا ارادہ بدل گیا۔

چھ مہینے کے بعدعبدالسلام صاحب نے مالک زمین سے کہا کہ اب مقرروقت پورا ہوگیا ہے، اب زمین کی رجسٹری کرادو۔مگر وہ حیلے والی باتیںکرنے لگا۔ اس نے کہا کہ ابھی ہمارا ارادہ رجسٹری کرنے کا نہیں ہے۔اس طرح وہ برابررجسٹری کے معاملہ کوٹالتا رہا۔ اس کے ذہن میں یہ تھا کہ عبدالسلام صاحب کا چار لاکھ روپے تو میرے پاس موجود ہی ہے۔زیادہ سے زیادہ وہ عدالت میں میرے خلاف کیس کریں گے۔میں مقدمات کا ماہر ہوں۔ ان کو عدالت میں دوڑاتا رہوں گا۔آخر کاروہ مجبور ہوکر میری شرطوں پر صلح کرلیں گے۔

ایک روز عبدالسلام صاحب مسٹر ہزارے کے یہاں پہنچے۔اس وقت وہاں ان کے سسر مسٹرساورکر بھی موجود تھے۔ان کا آر یس ایس سے گہرا تعلق تھا۔مسٹر ساورکر نے کچھ دل خراش باتیں کہیں۔ آخر میں یہ کہا کہ آپ کیا کرسکتے ہو۔ آپ یہی کرو گے کہ ہمارے خلاف کورٹ میں جائوگے۔ اور اگر آپ نے ایسا کیا تو ہم آپ کی چپلیں گھسوادیں گے۔

عبد السلام صاحب نے کہا کہ آپ میری چپلیں جب گھسوائوگے جب کہ میں کورٹ میں جائوں۔ مگر میں کورٹ میں جائوں گا ہی نہیں۔پھر آپ کیسے میری چپلیں گھسوائوگے۔مسٹر ساورکر نے کہا کہ پھر آپ کیا کریں گے۔عبدالسلام صاحب نے کہا کہ میں خود آپ کو ثالث بنائوں گا۔ایک طرف آپ کا داماد ہے۔دوسری طرف آپ کا یہ بھتیجا ہے۔اب آپ کو جو ٹھیک لگے اس کا فیصلہ کردو۔

مسٹر ساورکر کی بیوی اندر بیٹھی ہوئی اس گفتگو کو سن رہی تھی۔اس نے اشارہ سے مسٹر ساورکر کو بلایا۔اندر کچھ باتیں ہوئیں۔ اس کے بعد مسٹر ساورکرباہر آئے تو وہ بدلے ہوئے تھے۔اتنے میں مسٹر ساورکر کی بیوی اندر سے چائے لے کر آگئی۔مسٹر ساورکر چپ چاپ چائے پیتے رہے۔ اس کے بعد کہا کہ اچھا آپ کل آجائیے۔ہم کل ہی آپ کا فیصلہ کرادیتے ہیں۔اگلے دن عبدالسلام صاحب وہاں گئے تو مسٹر ساورکر خود اپنی گاڑی پر انھیں لے کر رجسٹرار آفس گئے۔وہ اثر و رسوخ والے آدمی تھے۔چنانچہ انھوں نے کوشش کرکے اسی دن زمین کی رجسٹری کرادی۔ عبدالسلام صاحب نے صرف طے شدہ رقم ادا کی۔

اس کے بعد مسٹر ساورکر کا یہ حال ہوا کہ جب بھی وہ سڑک پر ملتے تو گاڑی روک کر عبدالسلام صاحب کو حسب قاعدہ دونوں ہاتھ جوڑ کر سلام کرتے اور خیریت پوچھتے۔ ایک روز عبدالسلام صاحب اپنے کسی کام سے ہاوسنگ فائننس بورڈ کے دفتر میں گئے۔ اتفاق سے وہاں مسٹر ساورکر بھی موجود تھے۔ مسٹر ساورکر نے جب عبدالسلام صاحب کو دیکھا تو بورڈ کے ڈائرکٹر سے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہامیں نے مسلمان تو بہت دیکھے مگر بڈھے آدمی کا جوان باپ ایک ہی بار دیکھا۔اور وہ یہ عبدالسلام ہے۔اس نے میرے کو بہت بڑا سبق سکھایا ہے۔اس نے مجھے بتایا کہ آدمی اگر کسی سے مقدمہ نہ لڑے ،تو کورٹ میں اس کی چپلیں بھی گھسنے والی نہیں ہیں۔

مسٹرساورکر اگرچہ آریس ایس سے تعلق رکھتے تھے۔لیکن اس سے پہلے وہ ایک انسان تھے۔ عبدالسلام صاحب نے ان سے جب یہ کہا کہ میں آپ کا بھتیجا ہوں اور یہ آپ کا داماد ہے۔آپ خود ہی ثالث بن کر دونوں کے درمیان فیصلہ کردو،تو انھوں نے اپنے اس قول سے مسٹر ساورکر کے ’’انسان‘‘ کو جگا دیا یعنی ضمیر کو۔ اور جب کسی کے اندر کا انسان جاگ اٹھے تو وہ ہمیشہ انصاف ہی کا فیصلہ کرتا ہے۔ کسی کے اندر کا انسان ظلم اور بے انصافی کا فیصلہ کرنے پر قادر نہیں۔ (الرسالہ، دسمبر1993)

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion